بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نیند میں طلاق دینےسےطلاق کاحکم


سوال

ایک دن صبح کےوقت سوگیااورخواب میں دیکھاکہ میں اپنی زبان سےطلاق کےجملےبول رہاہوں اورمیں نےیہی جملےکئی باربولے،یہ سب  کچھ صرف خواب میں ہورہاتھااورخواب ہی میں بہت پریشان ہوگیاتھا؛کیوں کہ خواب کی حالت میں انسان کوایسالگتاہےجیسے حقیقت ہو، جب میری آنکھ کھلی  اورمیں نیم بیداری کی حالت میں تھاتو یوں محسوس ہواکہ میری زبان سےیہ جملہ  "i drow you"  نکلا ہے،جب میری مکمل آنکھ کھلی تومیری بیوی میرےسامنےبیٹھی ہوئی تھی ،میں اسےدیکھ کرگھبراگیاکیوں کہ وہ جملہ نہ میرےارادےسےتھااورنہ قصد سےبلکہ یہ خواب سےبیداری کی طرف  آتےہوئےغیرارادی ،بےاختیاری اورلاشعوری طورپرمیری زبان سےنکل گیا،یہ بات ضرورہےکہ مجھےطلاق کابہت زیادہ خوف لگارہتاہےاورمجھےاس کےبارےمیں وساوس آتےرہتےہیں ۔

1۔اب سوال یہ ہےکہ کیامذکورہ صورتحال  سےمیری بیوی کوطلاق ہوگئی ہےیانہیں ؟

2۔میں سوال پوچھنےکی غرض سےلفظ طلاق لکھتاہوں یاکبھی وہ لفظ بےاختیارطورپرمیرےذہن میں آتے ہےاورمیراذہن بیوی کی طرف چلاجاتاہےدل میں عجیب وغریب خیالات آتےرہتےہیں تو کیااس  سےطلا ق واقع ہوجاتی ہے؟

جواب

1۔2۔واضح رہےکہ طلاق کےلیےبیداری کی حالت میں زبانی یاتحریری طورپرطلاق دیناضروری ہے،نیندمیں طلاق دینےسےطلاق واقع نہیں ہوتی ،کیوں کہ  نیند  کی حالت میں انسان احکامِ شرعیہ کا مکلف نہیں ہوتا،ایسےہی طلاق کےوساوس آنےسےبھی طلاق واقع نہیں ہوتی ،اورنہ ہی مسئلہ پوچھنےکی غرض سےطلاق کاجملہ لکھنے سے طلاق ہوتی ہے، کیوں کہ  طلاق دینامقصودنہیں ہوتابلکہ حکایت(  گفتگو نقل کرنا)مقصود ہوتی ہے،مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پرطلاق واقع نہیں۔

 جب بھی طلاق کاوسوسہ آئےتواس کی طرف توجہ نہ دی جائے ،وسوسہ آتے ہی اپنے آپ کو کسی  کام میں مشغول کرلیں۔روزانہ ایک تسبیح"لاحول ولاقوة الابالله"پڑھنے کابھی اہتمام کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية . وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي."

(کتاب الطلاق،ج:3،ص:230،ط:سعید)

وفیہ أیضا:

"وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ.قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير...وبالمستيقظ عن النائم."

(‌‌كتاب الطلاق، أهل الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"لو ‌كرر ‌مسائل ‌الطلاق ‌بحضرة ‌زوجته ويقول أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال ثم يقف ويكتب: امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه."

(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 278، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں