
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، جہاں مجھے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔بعض مرتبہ مہینے کے درمیان کچھ گھریلو ضروریات کی بنا پر مجھے تنخواہ (مثلاً پندرہ دن کی) چاہیے ہوتی ہے مگر کمپنی عموماً ہم ملازموں کو تنخواہ مہینہ پورا ہونے سے پہلے مہیا نہیں کرتی۔میرے ایک ساتھی نے متوجہ کیا کہ پاکستان کے اندر ایک شریعہ کمپلائنٹ کمپنی ”نیم پے می ناؤ“ ( Neem PayMeNow) کے نام سے کام کررہی ہے اور میں جب چاہوں ان سے اپنی ایڈوانس تنخواہ حاصل کرسکتا ہوں،اوریہ اسے ”ارنڈ ویج ایکسس“ (Earned Wage Access/EWA) کے نام سے پکارتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ آن ڈیمانڈ تنخواہ ہے یعنی لوگوں کو ان کے کمانے کے فوراً بعد ان کی اپنی اجرت تک رسائی فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہے، بجائے اس کے کہ ان کے آجر، دو سے چار ہفتے بعد ادائیگی کریں۔ اس کمپنی کے کام کا طریقہ کار ان کے یو ٹیوب چینل پر یہ بتایا گیا ہےکہ سب سے پہلےملازم اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کرے، شناختی کارڈ نمبر درج کرے، بینک اکاؤنٹ نمبر درج کرے (یہ وہی بینک اکاؤنٹ ہونا چاہیے جس میں مجھے میری کمپنی سے تنخواہ موصول ہوتی ہے)، نیز اپنا موبائل نمبر بھی رجسٹرڈ کرنا ہوگا۔اس سب کی تصدیق کے بعد ”نیم پے می ناؤ“ مجھے ایڈوانس تنخواہ بطور قرضہ مہیا کردے گی، پھر مہینے کے آخر میں وہ بطور میرے وکیل میری کمپنی سے میری تنخواہ وصول کرلیں گے اور اس کو قرض میں ایڈجسٹ کرلیں گے اور باقی پیسے جو بچتے ہیں اس سے اپنی اجرت وصول کرلیں گے۔
یہ کمپنی دعویٰ کرتی ہے کہ یہ شریعت کے مطابق سروس ہے اور یہ سو فیصد سود(ربا) سے پاک سروس ہے ۔”نیم پے می ناؤ“ کی ویب سائٹ پر شریعہ ایڈوائزر کا سرٹیفیکیٹ بھی مہیا کیا گیا ہےجس میں یہ درج ہے کہ یہ کمپنی شریعہ کمپلائنٹ ہے یعنی شریعت کے اصولوں کے مطابق عمل کرتی ہے، مزید کوئی تفصیلات اس شریعہ سرٹیفیکیٹ میں مہیا نہیں کی گئیں ۔”نیم پے می ناؤ“ کے یو ٹیوب چینل پر ایک مفتی صاحب اس کے شرعی ہونے کی وضاحت فرمارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ دو الگ الگ معاملے ہیں، ایک معاملہ بلا سود قرضہ کا ہے اور دوسرا معاملہ ”نیم پے می ناؤ“ کمپنی کا وکیل کے طور پر ملازم کی کمپنی سے پیسے وصول کرنے کے ہیں اور اس وصولیابی کے لیے وہ اجرت (سروس چارج) لے رہے ہیں،وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ”نیم پے می ناؤ“ کے وسائل خرچ ہوں گے، انہیں کمپنی کے مالک سے ملنا ہوگا، ٹیکسی کروانی ہوگی، ان کا خرچہ ہوگا، ان کا وقت لگے گا، تو چوں کہ ان کا وقت اور وسائل لگ رہے ہیں، لہذا ان کی اجرت لینا صحیح ہے اور یہ سود نہیں ہے۔
سوال نمبر 1: کیا میرا اس طرح کا معاملہ کرنا شرعی طور پر درست ہے؟ کیا اگر میں ”نیم پے می ناؤ“سے پندرہ دن کی تنخواہ بطور بلا سود قرضہ لیتا ہوں تو ان کو یہ قرضہ مع اجرت (سروس چارج) دینا درست ہوگا؟
سوال نمبر2: کیا ان مفتی صاحب اور شریعہ ایڈوائزری کمپنی کا فتویٰ درست ہے؟
سوال نمبر3: سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اس کمپنی کو شریعہ کمپلائنٹ گردانا ہے۔ کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟
ویب لنک :https://www.neem.io/neem-paymenow
مذکورہ ادارے کا بنیادی مقصد اپنے ساتھ جڑے کاروباری اداروں کے ملازمین کو ان کی ضروریات کے لیے مہینے کے درمیان قرضہ فراہم کرنا ہے، اور اس قرضہ کی واپسی پر وہ اضافی رقم طلب کرتا ہے، جس کو وکالت کی اجرت، اخراجات، یا سروس چارجز کے نام سے وصول کرتے ہیں، واضح رہے کہ قرض کے اوپر کسی قسم کا نفع لینا، جس عنوان سے بھی ہو، سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، اسی طرح ہر وہ حیلہ جس کا مقصد کسی مسلمہ حرام کے لیے جواز کا راستہ نکالنا ہو، اختیار کرنا درست نہیں، لہذا مذکورہ ادارے کے ساتھ معاملہ کرنا بھی از روئے شرع جائز نہیں ہے۔
مذکورہ معاملوں کو دو الگ الگ معاملے(پہلا معاملہ بلا سود قرض اور دوسرا ادارے سے تنخواہ کی وصولی کی وکالت بالاجرت)متصور کرکے جائز کہنا درست نہیں، کیوں کہ معاملات میں الفاظ کے بجائے معانی اور مقاصد کا اعتبار ہوتا ہے، اور مقصد اور معنی کے لحاظ سے دوسرا معاملہ تنخواہ کی وصولی کی وکالت نہیں بلکہ ملازم کو دیے ہوئے قرض کی وصولی ہے، یعنی گویا کہ فقہی اصطلاح میں یہ ”حوالہ“ ہے جس میں ملازم ”محیل“، نیم پے می ناؤ ”محتال علیہ“ اور کمپنی (جس کا صارف ملازم ہے) کی حیثیت ”محتال لہ“ کی ہے، لہذا مذکورہ ادارہ ”نیم پے می ناؤ“ جب اپنے ہی دیے ہوئے قرض کی وصول یابی کررہا ہےتو اس پر اضافی رقم لینا سود اور حرام ہے۔
مذکورہ معاملہ کو شریعہ کمپلائنٹ یا فقہی اصولوں سے ہم آہنگ قرار دینا درست نہیں ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء."
(كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج: 3، ص: 1219، ط: دار إحياء التراث العربي)
رد المحتار میں ہے:
"(قوله: کلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي: إذا کان مشروطًا کما علم مما نقله عن البحر."
(باب المرابحة والتولیة، فصل في القرض، ج: 5، ص: 166، ط: سعید)
اعلاء السنن میں ہے:
"وکل قرض شرط فیه الزیادۃ فهو حرام بلا خلاف، قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃً أو هدیة، فأسلف علی ذٰلك أن أخذ الزیادۃ علی ذٰلك ربا، قال رسول اللّٰہ صلي اللّٰہ علیه وسلم: کل قرض جر منفعة فهو ربا."
(کتاب الحوالة، باب کل قرض جر منفعة فهو ربا، ج: 14، ص: 513، ط: إدارۃ القرآن)
النهرالفائق میں ہے:
"وفي (البزازية) وتعليق القرض حرام والشرط لا يلزم انتهى، وهو محمول على ما لو علقه بشرط فيه منفعة للمقرض."
(باب المتفرقات، ج: 3، ص: 526، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101559
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن