بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وکیل کا نذر کی رقم خود استعمال کرنے کا حکم


سوال

 میراسعودی عرب میں ایک دوست ہے اور اس نے مجھے کچھ پیسے بھیجے ہیں ، اور انہوں نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اور یہ نذر کے پیسے ہیں،جہاں آپ کے علاقے میں جو مستحقین ہیں ان میں تقسیم کر دیں ۔

 اگر میں خود مستحق ہوں اور مجھے ضرورت ہو تو کیا وہ پیسے میں اس کو پوچھےبغیر اپنے لیے استعمال کر سکتا ہوں یا نہیں؟ میں بہت ضرورت مند ہوں اور اس کی نظر میں میں مالدار ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  منت یا زکات کے پیسے خرچ کرنے کے لیے وکیل بنایا گیا ہے اور وہ خود بھی مستحق ہے، تو وہ ان پیسوں کو اپنے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔ ہاں، اگر مؤکل (یعنی جس نے وکیل بنایا ہے) نے یہ کہہ دیا ہو کہ "یہ رقم آپ جہاں چاہیں صرف کر دیں"، تو پھر وکیل  مستحق ہونے کی صورت میں خود بھی  استعمال کرسکتا ہے۔

صورت مسئولہ  میں چونکہ نذر ماننے والے نے آپ کو مکمل اختیار نہیں دیا ہے ، بلکہ یہ کہاہے کہ :"جہاں آپ کے علاقے میں جو مستحقین ہیں ان میں تقسیم کر دیں "، لہذا آپ کے لیے یہ رقم خود استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر وہ آپ کو یہ کہہ دیں کہ آپ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ کریں ، تو اگر آپ خود مستحق ہیں تو اس صورت میں آپ کے لیے خود استعمال کرنا بھی جائز ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے :

"وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ.إلا إذا قال ‌ضعها ‌حيث ‌شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية."

(كتاب الزكاة، شروط أداء الزكاة، ج:2، ص:227، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌وللوكيل ‌أن ‌يدفع ‌لولده ‌الفقير ‌وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت، ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ إن كان على نية الرجوع وكانت دراهم الموكل قائمة."

(‌‌كتاب الزكاة، ج:2، ص:269، ط: سعيد)

وفيه أيضًا:

"مصرف الزكاة والعشر..وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر،  ج:2، ص:339، ط:سعيد)

تبيين الحقائق میں ہے:

"لو قال لرجل ‌ادفع ‌زكاتي ‌إلى ‌من ‌شئت أو أعطها من شئت فدفعها لنفسه لم يجز وفي جوامع الفقه جعله قول أبي حنيفة وقال وعند أبي يوسف يجوز ولو قال ضعها حيث شئت جاز وضعها في نفسه." 

(كتاب الزكاة، باب المصرف، ج:1، ص:305، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"سوال:زکاۃ یا صدقہ کوئی کسی کو اس واسطے دے کہ جہاں مصرف ہواورجس کو مستحق دیکھے دیدے،درحقیقت وہ جن کو ادائیگی کےلیے دی جاتی ہے وہ خود مستحق ہے لیکن اس دینے والے کو اس کے مستحق اور مصرف ہونے کا علم نہیں،کیاوہ مستحق رقم زکاۃ خود لے سکتا ہے یا نہیں،یا صرف دوسرے مستحقین پر تقسیم کردے؟اس بات کا اس کو اختیار تھا کہ جس کو چاہے دے اور جتنادے لیکن مستحق کو دے۔

الجواب حامداًومصلیاً:

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں اس کو خود رکھنا درست نہیں۔"

(کتاب الزکاۃ، باب ادا الزکاۃ،زیرِ عنوان:وکیل خود مستحق زکاۃ ہو توکیا وہ زکاۃ کی رقم رکھ سکتاہے؟، ج:9، ص:491، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100565

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں