
ایک شخص نے نذر مانی کہ میری گائے تندرست ہوگئی تو میں اس کی قربانی کروں گا، پھر تندرست ہونے کے بعد وہ اس گائے کے بعض حصے میں عقیقہ کی نیت کرنا چاہتا ہے تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟
نذر اور عقیقہ دو الگ الگ نیتیں ہیں، ایک قربانی میں ان دونوں کو جمع کرنا درست نہیں ، صورت مسئولہ میں جس گائے کے تندرست ہونے پر اس مکمل گائے کی قربانی کی نذر مانی تھی، اس گائے میں عقیقہ کی نیت کرنا درست نہیں ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما قدره فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس."
(کتاب التضحیة، فصل في محل إقامة الواجب في الأضحية، ج: 5، ص: 70، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101952
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن