بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پوتی کے لیے وصیت کا حکم/ موصی سے پہلے موصی لہ کا انتقال ہوجائے تو وصیت باطل ہوجاتی ہے/ وارث کے لیے وصیت کا حکم


سوال

ہماری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے، ان کی ملکیت میں ایک مکان تھا، انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ایک بیٹااور دو بیٹیاں تھیں، ان کے علاوہ دو بیٹوں کا والدہ کی  حیات میں انتقال ہوچکا تھا۔ انتقال سے پہلے انہوں نے وصیت کی تھی کہ اس کے گھر کے پانچ حصے کیے جائیں، ایک حصہ  ایک فوت شدہ بیٹے کی بیٹی کو دینا اور چار حصے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کودیے جائیں، لیکن والدہ کے انتقال سے پہلے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ اب ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں تو سوال یہ ہے کہ والدہ کی اس وصیت کی کیا حیثیت ہے کیا اس پر عمل کیا جائے گا یا میراث شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ نےاپنی پوتی کے لیے جو وصیت کی ہے،اس پر عمل کرنا ورثاء پر لازم ہوگا، اور مرحومہ کے متروکہ مکان کا پانچواں حصہ مرحومہ کی مذکورہ پوتی کو دیا جائے گا۔ رہی وہ وصیت جو دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے لیے ایک ایک حصہ لینے کے  بارے میں تھی، تو مذکورہ وصیت کے بعد جس بیٹے کا والدہ کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا اس کے حق میں وہ وصیت باطل ہوگئی۔ البتہ جو ایک بیٹا اور دو بیٹیاں حیات ہیں ان کے متعلق وصیت کا نفاذ ان تینوں  ورثاء کی اجازت پر موقوف ہے۔ لہٰذا اگر تمام ورثاء اس وصیت پر راضی ہوں تو وصیت کے مطابق عمل کرنا جائز ہوگا، ورنہ چونکہ یہ لوگ مرحومہ کے ورثاء ہیں اور ورثاء کے حق میں وصیت دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر شرعاً نافذ العمل نہیں ہوتی، اس لیے ان کی رضامندی کے بغیر والدہ کی وصیت نافذ نہیں ہوگی اور مترو کہ مکان ضابطہ میراث کے مطابق مرحومہ کی حیات اولاد میں تقسیم کیا جائے گا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے ترکہ سے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وہ تکفین کے اخراجات( اگر اب تک ادا نہ کیے گئے ہوں یا کسی نے بطور قرض ادا کیے ہوں) نکالنے کے بعد مرحومہ پر اگر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، مرحومہ نے نواسی کے حق میں جو وصیت کی تھی اس پر عمل کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ (منقولہ وغیرہ منقولہ) کو چار حصوں میں تقسیم کر کے، دو   حصےمرحومہ کے زندہ بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:4

بیٹابیٹیبیٹی
211

یعنی فیصد کے اعتبار سے 50 فیصد مرحومہ کے زندہ بیٹے کو، اور 25 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

"مسألة: [‌موت ‌الموصى ‌له قبل الموصي]

قال: (وإذا أوصى لرجلٍ، ثم مات الموصى له قبل الموصِي:بطلت وصيته)؛لأن صحة الوصية متعلقة بموت الموصِي، ألا ترى أن الموصي له أن يرجع في وصيته، ويتصرف فيما أوصَى به بسائر وجوه التصرف، فلما كان كذلك، وكان الموصَى له ميتًا قبل موت الموصى، لم تصح له وصيته."

(‌‌كتاب الوصايا، مدخل، ج:4، ص:161، ط:دار البشائر الإسلامية)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."

(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسيرها..، ج:6، ص:90، ط: رشيدية)

الدر المختار مع الرد میں ہے:

"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة)  (إلا بإجازة ورثته) لقوله  عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث  (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته."

(کتاب الوصایا، ج:6، ص:655-656، ط: سعید)

وفیه أیضًا :

"(وتجوز بالثلث للاجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) يعني يعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية، على عكس إقرار المريض للوارث."

(کتاب الوصایا، ج:6، ص:650، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100929

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں