بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نواسے نواسی کا نانا نانی کی میراث میں حصہ ہوگا؟


سوال

ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے ورثاء میں 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، ایک بیٹی کا انتقال ان سے پہلے ہی ہوگیاتھا  اور اس بیٹی  کے ورثاء میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں  ہیں۔لہٰذا اب سوا ل یہ ہے کہ ہمارے والدین مرحومین کی میراث میں ان نواسے نواسیوں کو حصہ ملے گا جن کی والدہ کا پہلے ہی انتقال ہوگیا ہے؟ اگر ملے گا تو کتنا ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہوچکا تھا، تو دیگر  بیٹوں اور بیٹیوں کی موجودگی میں مرحومہ بیٹی کی اولاد کو نانا، نانی کے ترکہ میں سے  شرعاً بطورِ وارث حصہ نہیں ملے گا، البتہ اگر دیگر تمام ورثاء یا ورثاء میں سے کوئی ایک ان کو کچھ حصہ دینا چاہے، تو یہ ان کے ساتھ احسان ہوگا اور دینے والا عند اللہ اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں