
ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے ورثاء میں 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، ایک بیٹی کا انتقال ان سے پہلے ہی ہوگیاتھا اور اس بیٹی کے ورثاء میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔لہٰذا اب سوا ل یہ ہے کہ ہمارے والدین مرحومین کی میراث میں ان نواسے نواسیوں کو حصہ ملے گا جن کی والدہ کا پہلے ہی انتقال ہوگیا ہے؟ اگر ملے گا تو کتنا ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں جب بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہوچکا تھا، تو دیگر بیٹوں اور بیٹیوں کی موجودگی میں مرحومہ بیٹی کی اولاد کو نانا، نانی کے ترکہ میں سے شرعاً بطورِ وارث حصہ نہیں ملے گا، البتہ اگر دیگر تمام ورثاء یا ورثاء میں سے کوئی ایک ان کو کچھ حصہ دینا چاہے، تو یہ ان کے ساتھ احسان ہوگا اور دینے والا عند اللہ اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100757
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن