بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کا حکم


سوال

کیا ایک غیر شادی شدہ غیر کنواری (ثیبہ) عورت کا نکاح اس کے ولی کے بغیر ہو سکتا ہے ؟ عورت کا صرف ایک چھوٹا بھائی ہے جو اس کے نکاح کے اقدام میں اس کا ساتھ نہیں دے گا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی عاقلہ بالغہ  لڑکی (خواہ وہ کنواری ہو یا ثیبہ یعنی غیر کنواری) ولی کی اجازت کے بغیر ازخود اپنا نکاح کرے اور نکاح کی شرائط بھی موجود ہوں، تو شرعاً نکاح منعقد ہوجاتا ہے، کیوں کہ عاقلہ بالغہ ہونے کی وجہ سے وہ نکاح کے معاملہ میں خود مختار ہے۔

ہاں اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو (بے جوڑ) میں یا مہرِ مثل سے کم مہر پر نکاح کیا ہو، تو حمل  ظاہر ہونے سے قبل اولیاء کو مسلم عدالت کے ذریعے اس نکاح کو فسخ کرانے کا شرعی حق حاصل ہوتا ہے؛ تاہم اگر یہ نکاح کفو میں اور مہرِ مثل پر ہوا ہو تو اولیاء کا حقِ فسخ ساقط ہو جاتا ہے۔ اور کفو کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین،دیانت، مال ونسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم  پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو، اور مہر مثل سے مراد  لڑکی کے باپ کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو مال، جمال، دین، عمر، عقل، زمانہ، شہر، باکرہ یا ثیبہ وغیرہ  ہونے میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر  تھا اس جتنا مہر ، مہر مثل ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً، وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق. ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما."

(کتاب النکاح، الباب الخامس فی الأکفاء فی النکاح، ج:1، ص:292،  ط: رشیدیة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."

(کتاب النکاح ، فصل ولایة الندب و الإستحباب فی النکاح، ج:2، ص:247، ط: دارالکتب العلمیة)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله ‌نفذ ‌نكاح ‌حرة مكلفة بلا ولي)؛ لأنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة بالغة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج، وإنما يطالب الولي بالتزويج كي لا تنسب إلى الوقاحة ولذا كان المستحب في حقها تفويض الأمر إليه والأصل هنا أن كل من يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه يجوز نكاحه على نفسه وكل من لا يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه لا يجوز نكاحه على نفسه، ويدل عليه قوله تعالى{حتى تنكح} أضاف النكاح إليها ومن السنة حديث مسلم «الأيم أحق بنفسها من وليها» وهي من لا زوج لها بكرا كانت أو ثيبا، فأفاد أن فيه حقين حقه وهو مباشرته عقد النكاح برضاها، وقد جعلها أحق منه ولن تكون أحق إلا إذا زوجت نفسها بغير رضاه."

(كتاب النكاح، باب الأولياء و الأكفاء في النكاح، ج:3، ص:117، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101879

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں