بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے ذکر کے بعد میں تمہیں دیتا ہوں کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

چار پانچ سال قبل میری بیوی سے جھگڑا ہوا تھا، وہ جھگڑا میرے ذہن میں چل رہاتھا،تو میں آفس کے واش روم  کے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر  اپنے آپ سے کہا: ’’میں تمہیں طلاق دیتا‘‘  بس اتنا ہی کہا۔

آج 25-11-09 کو میرا اور میری بیوی کاسخت جھگڑا ہوا  تو میں نے بولا   "میں تمہیں طلاق"۔

مذکورہ  جملہ میں"میں تمہیں طلاق" کہنے کے بعد تقریباً پندرہ سیکنڈ تک جھگڑا جاری رہا، پندرہ  سکنڈ بعدمیں نے اسے ڈرانے کے لیے کہا: ’’میں تمہیں دیتا ہوں، میں تمہیں دیتا ہوں‘‘۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ان الفاظ سے میری بیوی پر طلاق واقع ہوئی؟ اگر ہوئی تو کتنی؟ اور کیا رجوع یا دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی سے پرانے جھگڑے کو یاد کرتے ہوئے  آئینے کے سامنے جو یہ الفاظ کہےکہ : "میں تمہیں طلاق دیتا"  چونکہ یہ کلمات ناقص ہیں،  اس میں دینے  یا نہ دینے کی صراحت نہیں  ہے ،  اس لیے ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

بعد ازاں 25-11-09 کو جھگڑے کے دوران سائل نے بیوی سے کہا: "میں تمہیں طلاق"  یہ جملہ بھی  نامکمل (غیر تام) ہے، کیونکہ اس میں صیغۂ ایقاع یعنی "دیتا ہوں" وغیرہ کا اضافہ نہیں ہوا، لہٰذا اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

البتہ اس کے تقریباً پندرہ سیکنڈ بعد اسی بحث و تکرار کے دوران سائل نے یہ الفاظ دو مرتبہ ادا کیے: "میں تمہیں دیتا ہوں، میں تمہیں دیتا ہوں"تو سیاقِ کلام کے اعتبار سے یہ دونوں جملے پہلے نامکمل جملے "میں تمہیں طلاق" ہی کی طرف لوٹتے ہیں، لہٰذا ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر  دو طلاقِ رجعی واقع ہو گئیں۔

بیوی کی عدت (تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو  اگر حمل ہو تو وضع حمل)کے اندر اندرشوہر کو    رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا،عدت گزرنے کے بعد رجوع کا حق ختم ہوجائے گا ،البتہ اس کے بعد میاں بیوی کےلیے باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔

بہرصورت آئندہ کےلیے سائل کو   صرف ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وركنه لفظ مخصوص. 

(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق و إن نواه."

(کتاب الطلاق ج:3، ص:230، ط :سعید)

الموسوعۃ الفقہیۃالکویتیۃ میں ہے :

"ركن سائر التصرفات الشرعية القولية عند الحنفية: الصيغة التي يعبر بها عنه. أما جمهور الفقهاء: فإنهم يتوسعون في معنى الركن، ويدخلون فيه ما يسميه الحنفية أطراف التصرف. والطلاق بالاتفاق من التصرفات الشرعية القولية، فركن الطلاق في مذهب الحنفية هو: الصيغة التي يعبر بها عنه."

(طلاق، ركن الطلاق، ج:29، ص:13، ط: وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية - کویت) 

و فيه أيضاّ:

"يشترط في اللفظ المستعمل في الطلاق شروط هي:‌‌الشرط الأول: القطع أو الظن بحصول اللفظ وفهم معناه:المراد هنا: حصول اللفظ وفهم معناه، وليس نية وقوع الطلاق به، وقد تكون نية الوقوع شرطا في أحوال."

(طلاق، شروط الطلاق، شروط اللفظ، ج:29، ص:23، ط:وزارة الأوقاف و الشئون الإسلامية - کویت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"و إذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض."

‌‌(كتاب الطلاق‌‌، الباب السادس في الرجعة و فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، ج:1، ص:470، رشيديه)

فقط وللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101074

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں