بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نشے کی حالت میں بیوی کو تین مرتبہ طلاق، طلاق، طلاق کہنا


سوال

میرے شوہر شراب پیتے تھے، اور مجھے روز مارتے تھے۔ ایک دن انہوں نے بہت زیادہ پی لی تھی اور مجھے مارنے لگے، تو میں نے کہا کہ ”میری جان چھوڑ دو، قصّہ ختم کردو۔“ تو انہوں نے ایک ہی سانس میں مجھے تین دفعہ ”طلاق، طلاق، طلاق“ کہا۔ تو کیا شریعت کی رو سے مجھے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائلہ کا  بیان صحیح اور درست ہے کے شوہر نے نشے کی حالت میں اسے مارا اور تین مرتبہ ”طلاق، طلاق، طلاق“ کے الفاظ ادا کیے، تو ان الفاظ سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور نکاح ختم ہوکر سائلہ اپنے  شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔ لہٰذا اب رجوع کی گنجائش نہیں رہی اور نہ ہی شرعًا تجدیدِ نکاح کی اجازت ہے۔ پس اب سائلہ اپنی عدت کے ایام (پوری تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو، اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک ) مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا دوبارہ ایک ساتھ رہنا حرام اور ناجائز ہوگا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط."

(کتاب الطلاق، الباب الأول، فصل فیمن یقع طلاقه و فیمن لا یقع طلاقه، ج:1، ص: 353، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(كتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:ايج ايم سعید)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں