بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نشہ چھوڑنے کا وظیفہ


سوال

 میرے شوہر نشے کے عادی ہیں، نماز کے بھی پابند نہیں اور نیک و صالح لوگوں کی صحبت میں نہیں رہتے؛ اس وجہ سے میں شدید پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اس صورتِ حال میں شرعاً میری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

میں ان کی اصلاح اور بہتری کے لیے کیا عملی اقدامات کر سکتی ہوں؟

اگر کوئی مجرّب دعا یا وظیفہ ہو جس سے اللہ تعالیٰ انہیں نشے سے نجات عطا فرمائے اور نماز کی پابندی نصیب کرے تو عنایت فرما دیں۔

جواب

 صورت مسئولہ میں بیوی خدمت اور اطاعت کے ساتھ ساتھ اچھے اور معروف طریقے سے اپنے شوہر کو سمجھائے، اور دعا کرےکہ اللہ تعالی اس بری عادت سے اس کونجات  عطافرمائے اور نمازکا پابند بنائے، نیزگیارہ دن تک درج ذیل آیت کھانے ،پینے کی اشیاء پر دم کراپنےشوہر کو کھلائے،پلائے ،اللہ تعالی  مذکورہ عادت سے  ان شاء للہ چھٹکارا عطافرمادےگا:

"وَحِیلَ بَیۡنَهُمۡ وَبَیۡنَ مَا یَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡیَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُوا۟ فِی شَكٍّ مُّرِیبٍ"

(سورۃ سبأ، آیت نمبر: 54، پارہ نمبر: 22)

(اصلاح خواتین   ص: 462،ط:مکتبہ البشری)

فقط  واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101240

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں