بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نقد میں خرید کر آگے ادھار میں مال فروخت کرنا


سوال

میری ایک کنفیکشنری کی دکان ہے، سرمایہ محدود ہے، ہم مختلف کمپنیوں کو  آرڈر دے کر مال منگواتے ہیں، اور ہر کمپنی کی ایک گاڑی تقریبا چار سے پانچ لاکھ روپے میں آتی ہے، جس میں 30 سے 40 آئٹم مال ہوتا ہے ،میرے پاس چونکہ سرمایہ نہیں ہے، میں کمپنی سے پوری گاڑی نہیں منگوا سکتاہوں، اب اگر میں کسی دوسرے شخص سے کہوں کہ مجھے کمپنی سے ایک گاڑی مال منگوا کر دو، اور وہ شخص اپنی طرف سے کمپنی کو پوری رقم ادا کر دے، اور مال اپنے قبضے میں لے لے، اس کے بعدوہ شخص وہی مال اپنانفع رکھ  کر مجھے بیچ دے ،اور میں اس سے رقم کی ادائیگی کا وقت مقرر کر لوں ،تو کیا میرے لیے اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اور بسا اوقات کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ دکان میں مال کم ہونے کی صورت میں میں اس دوسرےبندے کو فون کر کے کہتا ہوں کہ مجھے مال منگوانا ہے، اور وہ آگے سے کہہ دیتا ہے کہ تم منگوا لو،اور اس کا جو اسٹیمیٹ بنتا ہے وہ مجھے بنا کر دے دو، تو اس صورت میں  میں اس دوسرے شخص کے نام پر میں مال منگوا سکتا ہوں یا نہیں؟ جب کہ رقم اسی نے ادا کرنی ہے، اور وہی شخص یہ مال اپنے قبضے میں لے گا۔

نوٹ ۔میں اس دوسرے شخص سے رقم کی پوری ادائیگی کا 15 سے 20 دن کا وقت طے کر لیتا ہوں۔

 وضاحت :میں صرف کمپنی والوں کو فون کرکے مال کا  آرڈر دیتا ہوں،جب کمپنی والے گاڑی بھیجتے ہیں تو ان کو  بل وہی دوسرا  شخص ادا کرتا ہے، اور مال پر قبضہ بھی وہی کرتا ہے، اور قبضہ کرنے کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کمپنی والے مال والی گاڑی اُس دوسرے شخص کے گھر پر بھیج دیتے ہیں، مذکورہ دوسرا شخص  اس کی رقم ادا کردیتا ہے، پھر اُس کے بعد میں اس دوسرے شخص سے مذکورہ مال  متعین مدت کے ساتھ ادھار پر خرید لیتا ہوں، پھر میں اس گاڑی کو اپنے گودام میں لے جا کر وہاں اپنے پاس مال اترواتا ہوں۔

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ سائل کے پاس مال منگوانے کے لیےسرمایہ نہیں ہے،اس بناء پر سائل کا کسی دوسرے شخص سے کمپنی سے مال منگوانے کے لیے معاونت لینا شرعاً درست ہے،لہذا مذکورہ صورت میں جو شخص کمپنی سے مال منگواتا ہے، اور  رقم ادا کرکے سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق اس پر قبضہ بھی کرتا ہے تو شرعاً یہ اُسی شخص  کا قبضہ شمار ہوگا،اور وہی شخص مذکورہ مال کا مالک ہوگا،پھر وہی   شخص   مذکورہ  مال اگر  سائل کو ایک  متعین مدت  کے ساتھ   ادھارمیں  فروخت کرنا چاہے تو  شرعاًاس کی بھی گنجائش ہے، اور مذکورہ  بیع   درست ہوجائے گی۔

نیز دوسرے فرد کا سائل کو اپنا وکیل بنا کر کمپنی سے مال منگوانا، اور پھر دوسرے فرد  کا مذکورہ مال کی رقم ادا کرکے  اس پر خود قبضہ کرنا شرعاً درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع".

(قوله: وهو الأصل) ؛ لأن الحلول مقتضى العقد وموجبه والأجل لا يثبت إلا بالشرط بحر عن السراج. (قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) تعليل لاشتراط كون الأجل معلوما؛ لأن علمه لا يفضي إلى النزاع، وأما مفهوم الشرط المذكور وهو أنه لا يصح إذا كان الأجل مجهولا فعلته كونه يفضي إلى النزاع فافهم."

(کتاب البیوع، مطلب في الفرق بين الأثمان والمبيعات، ج:4، ص:531، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102455

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں