بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کی حالت میں قرآنی آیات بطور دعاء پڑھنا


سوال

میری اہلیہ پاکی کی حالت میں روزانہ کی بنیاد پر سورہ اخلاص دو سو مرتبہ  بطور وظیفہ زبانی پڑھتی ہیں، لیکن جب وہ ناپاکی کی حالت میں نماز نہیں پڑھ سکتی تو آیا وہ یہ وظیفہ پڑھ سکتی ہیں؟

علاوہ ازیں کبھی کبھار میاں بیوی ہمبستری سے پہلے سونے کی قرآنی دعائیں جیسی آیت الکرسی وغیرہ بھول جاتے ہیں، یاد آنے پر کیا ناپاکی کی حالت میں انہی قرآنی دعاؤں کا ورد کیا جا سکتا ہے ؟

جواب

ناپاکی کی حالت میں اوراد و وظائف یا  ماثور ادعیہ پڑھنے کی اجازت ہے، البتہ قرآن کریم کو چھونا  اور پڑھنا جائز نہیں ہے، تاہم  وہ قرآنی آیات جن  میں دعائیہ کلمات یا دعا کے معنی پائے جاتے ہوں، ان کو بطور دعا، ورد یا وظیفہ کے پڑھ سکتے ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں خاتون،  ایام حیض میں اپنے وظائف میں زبانی سورہ اخلاص پڑھنے کا معمول پورا کرسکتی ہے، جب کہ اس سے مقصود تلاوت نہ ہو، نیز ہم بستری کے بعد بہتر تو یہ ہے کہ زوجین  سونے سے پہلے غسل کر کے جلد از جلد طہارت  حاصل کرلیں، اس کے بعد مسنون دعاؤں کا معمول مکمل کریں، تاہم اگر کسی وجہ سے غسل کو  مؤخر کیا جائے تو حالتِ جنابت میں بھی مذکورہ دعائیں پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔

سنن أبی داؤد میں ہے:

"عن معاذ بن عبد الله بن خبيب، عن أبيه، أنه قال: خرجنا في ليلة مطر، وظلمة شديدة، نطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي لنا، فأدركناه، فقال: أصليتم؟ فلم أقل شيئا، فقال: «قل» فلم أقل شيئا، ثم قال: «قل» فلم أقل شيئا، ثم قال: «قل» فقلت: يا رسول الله ما أقول؟ قال: «‌قل ‌قل ‌هو ‌الله ‌أحد ‌والمعوذتين ‌حين ‌تمسي، ‌وحين تصبح، ثلاث مرات تكفيك من كل شيء»."

(ابواب النوم، باب ما یقول إذا اصبح، ج: 4، ص: 321، ط: المکتبة العصریة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها) ‌حرمة ‌قراءة ‌القرآن لا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئا من القرآن والآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح إلا أن لا يقصد بما دون الآية القراءة مثل أن يقول الحمد لله يريد الشكر أو بسم الله عند الأكل أو غيره فإنه لا بأس به."

(کتاب الطھارة، الفصل الرابع، ج: 1، ص : 38، ط: دار الفکر)

رد المحتار میں ہے :

"فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به، كما قدمناه عن العيون لأبي الليث، وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لايؤثر فيه قصد غير القرآنية".

(کتاب الطھارة، باب الحیض، ج: 1، ص: 293، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704102102

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں