بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کی حالت میں روزہ رکھنا


سوال

ناپاکی میں روزہ رکھ لیا اور صبح نہا لیا تو روزہ ہوگا  یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص سحری سے پہلے جنابت (ناپاکی) کی حالت میں ہو تو اس کے لیے  بہتر یہ  ہے کہ غسل  کرکے سحری کرے، اگر غسل کا وقت نہ ہو  یا کوئی عذر ہو تو وضو یا کلی وغیرہ کرکے  سحری کرلینی چاہیے،  جنابت کی حالت میں سحری کرنا منع نہیں ہے۔

لہذا اگر کسی شخص  پر غسل واجب  ہو اور وہ صبح صاد ق سے پہلے غسل نہ کرسکے  اور سحری کرکے یا بغیر سحری کے روزہ رکھ لے تو اس کا روزہ درست ہے،   ناپاک ہونے کی وجہ سے  روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ  اس کے بعد  پھر جلد از جلد غسل کرلینا چاہیے، غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ  فجر کی  نماز قضا ہوجائے گناہ کا باعث ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 400):

"(أو أصبح جنبًا و) إن بقي كل اليوم ... (لم يفطر)".

الفتاوى الهندية (1/ 16):

"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لايأثم، كذا في المحيط".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209200936

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں