
میرے گھر میں میری والدہ کپڑے دھوتی ہیں ،پہلے ناپاک کپڑے سرف کے پانی میں دھوئے جاتے ہیں، لیکن وہ سرف کا پانی پہلے استعمال ہوتا ہے جس میں پاک اور ناپاک دونوں کپڑے دھوئے جاتے تھے۔ اب کپڑے ناپاک سرف میں دھوئے جاتے ہیں ،لیکن نجاست کا اثر اب دور ہو جاتا ہے، اس کے بعد سارے کپڑے دو بار واشنگ مشین میں دھوئے جاتے ہیں ۔
میں والدہ سے کہتا ہوں کہ آپ کو تین بار دھونا پڑے گا انہوں نے نہیں سنا اور والد نے مجھے دوبارہ دھونے کی اجازت نہیں دی اور اب کیا کروں ؟
واضح رہے کہ اگر کپڑوں پر نجاست لگ جائے تو انہیں پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس جگہ نجاست لگی ہو اس جگہ کو تین مرتبہ اس طور پر دھو لیا جائے کہ ہر مرتبہ پانی ڈالنے کے بعد اچھی طرح نچوڑ لیا جائے، اس طرح تین مرتبہ کر لینے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے۔البتہ اگر ناپاک کپڑے کو تالاب یا بہتے پانی میں اچھی طرح دھویا جائے، اور اس پر خوب پانی بہایا جائے کہ نجاست کا اثر دور ہوجائے تو وہ کپڑا پاک ہوجاتا ہے، اگر چہ اسے تین مرتبہ نچوڑا نہ گیا ہو۔ اصل مقصود نجاست زائل کرنا ہے۔
اسی طرح اگرناپاک کپڑوں کو کسی پانی میں ڈال دیا گیا، تو اس سے وہ پانی بھی ناپاک ہوجائے گا، پھر اس ناپاک پانی سے جتنے کپڑوں کو دھویا جائے گا، وہ کپڑے بھی ناپاک ہی ہوں گے، چاہے اس پانی کی وجہ سے ان کپڑوں سے نجاست زائل ہوجائے۔
البتہ اگر ان کپڑوں کو بعد میں صاف بہتے پانی میں ایک دفعہ بھی مکمل دھو لیا گیا، تو اس سے وہ پاک ہوجائیں گے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ سرف کے ایسے پانی میں کپڑوں کو دھوتی ہیںِ جس میں پہلے ناپاک کپڑے بھی دھوئے گئے ہوں، تو اس سے یہ کپڑے ناپاک ہوجائیں گے، اس کے بعد مشین میں محض دھونے سے پاک نہیں ہوں گے (جب تک مشین میں تین دفعہ پانی بدل کر نہ دھو لیا جائے)۔
لہٰذا سائل کو چاہیے کہ ایسے کپڑے پہننے سے پہلے ایک دفعہ ان کو بہتے پانی میں اچھی طرح مکمل دھو لیا کرے،اس کے بعد پہنے، ناپاک کپڑوں میں نماز نہ پڑھے۔ اور جو نمازیں ناپاک کپڑوں میں پڑھی ہوں انہیں لوٹا لے۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:
"و" يطهر محل النجاسة "غير المرئية بغسلها ثلاثاً" وجوباً، وسبعاً مع الترتيب ندباً في نجاسة الكلب خروجاً من الخلاف، "والعصر كل مرة" تقديراً لغلبة.یعني اشتراط الغسل والعصر ثلاثاً إنما هو إذا غمسه في إجانة، أما إذا غمسه في ماء جار حتى جرى عليه الماء أو صب عليه ماءً كثيراً بحيث يخرج ما أصابه من الماء ويخلفه غيره ثلاثاً فقد طهر مطلقاً بلا اشتراط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار، والمعتبر فيه غلبة الظن، هو الصحيح، كما في السراج، ولا فرق في ذلك بين بساط وغيره، وقولهم يوضع البساط في الماء الجاري ليلةً إنما هو لقطع الوسوسة".
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس والطهارة عنها، ص: 161، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:
"(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفاً وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثاً) أو سبعاً (فيما ينعصر) مبالغاً بحيث لا يقطر۔ ۔ ۔ وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار .... أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به، أو مع شرط التثليث على ما مر، ولا شك أن الغسل بالماء الجاري وما في حكمه من الغدير أو الصب الكثير الذي يذهب بالنجاسة أصلاً ويخلفه غيره مراراً بالجريان أقوى من الغسل في الإجانة التي على خلاف القياس؛ لأن النجاسة فيها تلاقي الماء وتسري معه في جميع أجزاء الثوب فيبعد كل البعد التسوية بينهما في اشتراط التثليث، وليس اشتراطه حكماً تعبدياً حتى يلتزم وإن لم يعقل معناه، ولهذا قال الإمام الحلواني على قياس قول أبي يوسف في إزار الحمام: إنه لو كانت النجاسة دماً أو بولاً وصب عليه الماء كفاه، وقول الفتح: إن ذلك لضرورة ستر العورة كما مر، رده في البحر بما في السراج، وأقره في النهر وغيره. (قوله: في غدير) أي: ماء كثير له حكم الجاري. (قوله: أو صب عليه ماء كثير) أي: بحيث يخرج الماء ويخلفه غيره ثلاثاً ؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر، هو الصحيح، سراج. (قوله: بلا شرط عصر) أي: فيما ينعصر، وقوله: " وتجفيف " أي: في غيره، وهذا بيان للإطلاق".
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، 1، ص: 133، سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100949
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن