بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاک کپڑا جیب میں رکھ کر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

اگر جیب  کے اندر کوئی ناپاک کپڑا ہو تو کیا نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

جیب کے اندر موجود  ناپاک کپڑے پر  اگر ایک درہم (یعنی ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے) کے برابر یا اس سے کم  ناپاکی لگی ہو تو اس صورت میں نماز  ادا تو  ہوجائے گی، البتہ ایسے ناپاک کپڑے  کے ساتھ  نماز پڑھنا مکروہ و  نا پسندیدہ  ہے، اور اگر جیب میں موجود کپڑے پر ناپاکی   ایک درہم ( یعنی ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے)  سے زیادہ مقدار میں ہو تو اس صورت میں نماز ادا نہیں ہوگی، لہذا اگر کسی نے ایسے کپڑے کے ہوتے ہوئے نماز پڑھ لی تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(طهارة بدنه)... (وثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته أو يعد حاملا له كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع وإلا لا.

(قوله وكذا ما) أي شيء متصل به يتحرك بحركته كمنديل طرفه على عنقه وفي الآخر نجاسة مانعة إن ‌تحرك ‌موضع النجاسة بحركات الصلاة منع وإلا."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب شروط الصلاة، ج: 1، ص: 402، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل... (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي، وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ."

(كتاب الطهارة، ‌‌باب الأنجاس، ج: 1، ص: 318،316، ط: سعيد)

العنایہ میں ہے:

"إذا صلى ‌وفي ‌كمه قارورة فيها دم لا تجوز صلاته؛ لأن النجاسة ليست في معدنها."

(‌‌كتاب الطهارات، ‌‌باب الماء الذي يجوز به الوضوء وما لا يجوز، ج: 1، ص: 84، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101454

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں