بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

نانی کا دودھ پینے والے شخص کا نانی کی پوتی یا نواسی سے نکاح اور وراثت کا حکم


سوال

1۔ ایک لڑکا ہے جس نے اپنی سگی نانی کا دودھ پیا ہوا ہے۔ اب اس کا نکاح اپنی خالہ یا ماموں کی بیٹی سے ہوسکتا ہے کہ نہیں؟

2۔ نیز اس کا اپنی اسی نانی اور نانا کی وراثت میں شرعی حصّہ ہوگا یا نہیں؟ نانا، نانی ابھی حیات ہیں، مگر وہ لڑکا ابھی سے میراث کا مطالبہ کر رہا ہے۔ شرعاً اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ جس طرح سگے ماموں کا اپنی بھانجی سے اور سگے چچا کا اپنی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح رضاعی ماموں کا اپنی رضاعی بھانجی سے اور رضاعی چچا کا اپنی رضاعی بھتیجی سے نکاح بھی جائز نہیں؛ کیونکہ رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو نسب سے ثابت ہوتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس لڑکے نے اپنی سگی نانی کا دودھ پیا ہے، اس کا نکاح اپنی خالہ یا ماموں کی بیٹی سے جائز نہیں؛ کیونکہ نانی کا دودھ پینے کی وجہ سے وہ اپنی خالہ کی اولاد کا رضاعی ماموں اور اپنے ماموں کی اولاد کا رضاعی چچا شمار ہوگا۔ اس بنا پر ان سے نکاح شرعاً جائز نہیں۔

2۔ میراث کا حق نسبی رشتہ داروں کو حاصل ہوتا ہے۔ رضاعی اولاد کا اپنے رضاعی والدین یا دیگر رضاعی رشتہ داروں کی میراث میں شرعاً کوئی حق یا حصہ نہیں ہوتا۔

لہٰذا محض نانی کا دودھ پینے کی وجہ سے مذکورہ لڑکا اپنے رضاعی نانا یا رضاعی نانی کی میراث کا حق دار نہیں بنے گا، اور نہ ہی اس کے لیے ان سے میراث کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔ البتہ وہ اپنے حقیقی والدین اور نسبی رشتہ داروں کی میراث کا مستحق ہوگا۔ لیکن میراث کا حق چونکہ مورث کی وفات کے بعد ثابت ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی زندگی میں اس سے بھی میراث کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع و أصولهما و فروعهما من النسب و الرضاع جميعًا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعًا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعًا فالكل إخوة الرضيع و أخواته و أولادهم أولاد إخوته و أخواته و أخو الرجل عمه و أخته عمته و أخو المرضعة خاله و أختها خالته و كذا في الجد والجدة."

(کتاب الرضاع، ج:1، ص:343، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:758، ط:ایج ایم سعید كراتشي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100874

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں