بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کا اپنی زندگی میں کسی کو تحفہ دینے کی خواہش کا حکم


سوال

ایک خاتون کا انتقال ہوا، ان کے ترکے میں کچھ طلائی زیور ہے۔ان کی اولاد(چار بیٹے اور تین بیٹیاں) میں سے ایک بیٹی نے یہ دعوی کیا کہ والدہ نے اپنی زندگی میں کہا تھاکہ وہ اپنا زیور اپنی نواسی کو دیں گی، اس لیے وہ زیور مجھے دیا جائے، اور اس بات پر اس نے بطور گواہ ایک بھائی کو پیش کیا، جب کہ ایسی کسی بات اور وصیت کا کوئی گواہ بھی نہیں ہےاور جو بھائی گواہ بن کر گیا اس پر گواہ کے طور پر  دیگر بھائی اعتبار نہیں کر رہے ہیں۔

ایسی صورت میں ان طلائی زیورات کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا وہ ترکہ کی صورت میں سب ورثاء کے لیے دستیاب ہوگا اور ا یسے ترکہ کی تقسیم کی بابت کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر نانی نے واقعتاً اپنی نواسی سے متعلق یہ کہا ہو کہ "وہ اپنا زیور اپنی نواسی کو دیں گی"، ایسی صورت میں یہ وصیت نہیں بلکہ محض ان کی خواہش ہے، اس کا پورا کرنا لازم نہیں۔ لہذا اگر ورثاء کو اس بات پر اور پیش کردہ گواہ پر اعتماد نہ ہو تو یہ زیورات ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں تقسیم کیے جائیں گے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان معنى الوصية فالوصية اسم لما أوجبه الموصي في ماله بعد موته وبه تنفصل عن البيع، والإجارة، والهبة؛ لأن شيئا من ذلك لا يحتمل الإيجاب بعد الموت ألا ترى: أنه لو أوجبها بعد الموت بطل.

وذكر الكرخي - عليه الرحمة - في حد الوصية ما أوجبه الموصي في ماله تطوعا بعد موته، أو في مرضه الذي مات فيه."

(كتاب الوصايا، فصل في معنى الوصية، ج: 10، ص: 505، ط: دار الحديث القاهرة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں