بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نانی اور دادی میں بچہ کی پرورش کی اولین حق دار کون ہے؟


سوال

ایک گھر میں دھماکا ہونے کی وجہ سے میاں بیو ی اور بچہ چل گئے،اس دھماکے کی وجہ عام طور پر یہ بتائی گئی کہ جادو کی وجہ سے ایسا ہواہے، ایک گولا آیا اور سامان اور کسی چیز کو نہیں جلایا اور ان تینوں کو جلادیا، چند ہی دنوں میں شوہر اور بیوی کا انتقال ہو گیا، جب کہ بچہ(جس کی عمر اس وقت سوا دو سال تھی اور اب تین سال ہے) ہسپتال میں تقریبا ڈیڑھ ماہ رہا،بچے کی ساری دیکھ بھال خالہ،نانی اور ماموں نے کی،اس کے بعد مشاورت ہوئی کہ بچہ کہاں رہے گا؟بچے کی دادی تایا اور وہ تایا جن کے ساتھ بچے کے والد کاروبار تھا موجود تھے، نیز نانا نانی بھی موجود تھے، یہ طے ہوا کہ بچہ اپنی نانی کے پاس رہے گا، وہی اس کی صحیح خدمت کر سکتی ہے اور تایا نے کہا کہ ہم نے یہ بچہ خدا تک آپ کو دیا یعنی ہمیشہ کے لیے دیا، اب بچہ کاتایا  اس کو لینا چاہ رہا ہے کہ دادی اس کو سنبھالے گی، جن کی عمر  75 سال ہے،وہ خود ضعیف ہیں اور خدمت کی محتاج ہیں، بچہ دادی کے پاس نہیں چاہ رہا ہےاور وہاں جا کر روتا ہے، بیمار ہو جاتا ہے، بچے کے نانا اور نانی(جس کی عمر 50سال ہے)  چاہتے ہیں کہ بچہ ہمارے پاس ہی رہے، بچہ کی ماں نے آخری وقت اپنی والدہ کو وصیت کی تھی کہ میرے بچے کا خیال رکھنا۔

سوال یہ ہے کہ بچہ کس کے پاس آئے گا؟ ہمیں دولت کی ضرورت نہیں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں وفات پانے والی عورت کے بچہ کی  پرورش کا حق شرعاً بچے کی نانی کو حاصل ہے، لہذا بچے کے تایا کا بچے کی دادی کے لیےیہ کہنا کہ دادی بچے کو سنبھالے گی اور بچے کواس کی نانی سے لینے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ بچے کی پرورش کی حق دار شرعاً اس کی نانی ہی ہےاور بچے کی عمر سات سال ہونے تک پرورش کا حق نانی کوحاصل ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور."

 (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 562 ، ط: دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ، وإن علت ، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها ، وإن علت كذا في فتح القدير."

(الفتاوی الھندیة، کتاب الطلاق، الباب السادس عشرفي الحضانة ج: 1، ص: 541، ط : رشيديه)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں