بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنےکا کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ بلا عذر ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے،اور اس  سے ثواب میں کمی ہوتی ہے ،

لہذااگر کوئی محض سستی، غفلت یا لاپروائی کی بنا ءپر بغیر ٹوپی یا بغیر عمامہ  کے نماز ادا کرے تو ایسی نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو جاتی ہے، اس لئے نماز کے دوران ٹوپی یا عمامہ یا دونوں پہننے چاہئیں تاکہ نماز مکروہ نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) كره(وصلاته حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل)

(قوله للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمرا مهما في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاونا بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار لأنه كفر شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فهو العجز."

(‌‌كتاب الصلاة،‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:641،640،ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وتكره الصلاة حاسرا رأسه إذا كان يجد العمامة وقد فعل ذلك تكاسلا أو تهاونا بالصلاة ولا بأس به إذا فعله تذللا وخشوعا بل هو حسن. كذا في الذخيرة."

 (کتاب الصلاۃ،الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره،ج:1،ص: 106،ط:دارالفکر بیروت)

المحيط البرهاني میں ہے:

"وتكره الصلاة ‌حاسرا رأسه تكاسلا، ولا بأس إذا فعله تذللا خشوعا بل هو حسن، هكذا حكي عن شيخ الإسلام أبي الحسن السغدي رحمه الله."

 (‌‌کتاب الصلاۃ،الفصل السادس عشر في التغني والألحان،ج:1،ص: 377،ط:دار الكتب العلمية، بيروت لبنان)

کفایت المفتی میں ہے:

ننگے سر نماز کا حکم:

(سوال) ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟

(جواب (٧٣٦) ننگے سر نماز پڑھنا جائز ہے اگر تواضعا و خشوعا ہو تو کوئی کراہت نہیں اور اگر بے پروائی اور لاا بالی پنےسے ہو تو بکر اہت نماز ہو جائے گی۔

(کتاب الصلوٰۃ،تئیسواں باب سترعورت ،ج:3،ص:475،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں