بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نان و نفقہ نہ دینے والے اور گھر نہ بسانے والے شوہر سے علیحدگی کا حکم


سوال

میں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کروائی اور اپنے بیٹے کی شادی اپنی بھتیجی سے کروائی۔ میرے بیٹے کی بیوی کسی وجہ سے والدین کے گھر گئی تو واپس نہیں آئی، کافی کوشش کے باوجود جب وہ نہیں آئی تو میرے بیٹے نے اسے طلاق دے دی۔

اب میری بیٹی کو اس کے سسرال والوں نے میرے گھر بھیج دیا ہے، بیٹی روتی رہی کہ مجھے اپنے میکے نہیں جانا لیکن انہوں نےپھر بھی اسے گھر بھیج دیا۔ ڈیڑھ سال سے وہ میرے ساتھ رہ رہی ہے۔ اس کا شوہر نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی گھر بسا رہا ہے۔ کئی مرتبہ صلح کی کوشش کی لیکن میرا داماد کہتا ہے کہ میرے گھر والوں کی مرضی چلے گی۔

گزشتہ ڈیڑھ سال سے شوہر نے نہ خرچہ  دیا ہے  اور نہ گھر بسانے پر آمادہ ہے، بیٹی جوان ہے وہ دوسری جگہ شادی کرنا چاہتی ہے تو اب وہ دوسری جگہ کیسے شادی کر سکتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کا داماد اگر واقعۃ اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا انتظام نہیں کرتا ہے  اور نہ ہی گھر بسانے پر آمادہ ہے اور نہ ہی طلاق دیتا ہے ، تو سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان اور علاقے کے بااثر  افراد کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کروانے کی کوشش کرے،اگر داماد گھر بسانے پر راضی ہوجائے تو گھر بسانے کی کوشش کی جائے اور اگر وہ کسی طرح گھر بسانے پر آمادہ نہ ہو تو کچھ مال دے کر اس سے خلع لینےکی کوشش کی جائے، خلع کے بعد سائل کی بیٹی عدت (تین ماہواریاں) گزار کر جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔

اور اگر ان میں سے کوئی صورت ممکن نہ  توسائل کی بیٹی  شوہر کے نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر   عدالت کے ذریعے اپنا نکاح فسخ کروا سکتی ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ سائل کی بیٹی مسلمان جج کی عدالت میں شوہر کے نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر تنسیخ نکاح   کا مقدمہ دائر کرے، اور اپنے نکاح کو اور شوہر کے نان ونفقہ نہ دینے کو شرعی گواہوں کے ذریعے سے ثابت کرے، پھر جج اس  کے دعوے کی شرعی شہادت کے ذریعے سے تحقیق کرے، اگر   دعوی سچ ثابت ہوجائے تو  جج سائل کے داماد کو طلب کرے اور اس کو نان ونفقہ دینے کاحکم دے،اگر وہ اپنی بیوی  کے حقوق ادا کرنے پر آمادہ ہوجائے تو بہتر، اور اگر وہ اپنی بیوی کے حقوق ،نان ونفقہ دینے پر آمادہ نہ ہو یا عدالت میں حاضر نہ ہوتو جج سائل کی بیٹی کا نکاح  فسخ کردے، نکاح فسخ ہونے کے بعد سائل کی بیٹی  عدت (تین ماہواریاں)  گزار کر جہاں چاہے نکاح کرسکے گی۔

حیلۂ ناجزہ میں ہے :

"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه: إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه. قال محشيه قوله: وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلی أن قال: وإن تطوع بالنفقة قريب أو أجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها. وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهی وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف."

(الروایة الثالثة والعشرون، ص: 150، ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں