
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کتبِ فتاویٰ میں مذکور ہے کہ اگر نمازی کے سامنے، دائیں جانب، بائیں جانب یا پیچھے جان دار کی تصویر ہو تو نماز مکروہ ہوتی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ: (1) سامنے سے کیا مراد ہے؟ آیا اس سے پوری قبلہ کی دیوار مراد ہے یا صرف وہ حصہ جو عین نمازی کے سامنے واقع ہو؟ (2) دائیں جانب سے کیا مراد ہے؟ آیا پوری شمالی دیوار مراد ہے یا صرف نمازی کی عین دائیں جانب کا حصہ؟ (3) بائیں جانب سے کیا مراد ہے؟ آیا پوری جنوبی دیوار مراد ہے یا صرف نمازی کی عین بائیں جانب کا حصہ؟ (4) پیچھے سے کیا مراد ہے؟ آیا پوری مشرقی دیوار مراد ہے یا صرف نمازی کے بالکل پیچھے کا حصہ؟ (5) بسا اوقات مساجد کے پنکھوں میں جان دار کی تصویر ہوتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ (6) اسی طرح بسا اوقات مساجد کے فرش یا نقش و نگار میں غور سے دیکھا جائے تو جان دار کی تصویر معلوم ہوتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا تشبہ بالتصویر بھی تصویر کے حکم میں داخل ہے یا نہیں؟
1، 2، 3، 4. سامنے ، دائیں، بائیں اور پیچھے سے مراد نمازی کی چاروں طرف کی مکمل جگہ، لہذا چاروں جانب میں اگر کسی دیوار پر یا پردے پر تصویر لٹکی ہوگی یا زمین یا کسی بھی چیز پر کوئی تصویر (کھڑی حالت میں ) رکھی ہوگی تو نماز مکروہ ہوگی۔
5. اول تو مساجد میں ایسے پنکھے لگانا درست نہیں ہے، البتہ اگر کسی مسجد میں ایسے پنکھے لگے ہوئے ہیں تو پھر دیکھا جائے گا کہ تصویر کتنی واضح اور بڑی ہے؟ اگر اتنی بڑی اور واضح ہے کہ اگر یہ تصویر زمین پر رکھی ہو تو کھڑے ہو کر دیکھنے والے شخص کو تصویر میں موجود اعضاء کی تفاصیل محسوس ہوجائیں تو پھر نماز مکروہ ہوگی کیونکہ نمازی کے سر کے اوپر کی جانب تصویر کا ہونا بھی نماز کو مکروہ کردیتا ہے۔اگر اتنی چھوٹی کہ اگر یہ تصویر زمین پر رکھی ہو تو کھڑے ہو کردیکھنے والے شخص کو تصویر میں موجود اعضاء کی تفاصیل محسوس نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں ہوگی۔
6. محض کسی نقش و نگار سے تصویر کا وہم اور شائبہ پیدا ہونے سے وہ تصویر کے حکم میں نہیں آئے گی۔ باقی کسی مخصوص نقش و نگار کا حکم وہ نقش و نگار دیکھنے کے بعد ہی بتایا جاسکتا ہے۔اور اگر واقعی جاندار کی تصاویر ہیں اور وہ پاؤں کےنیچے فرش پر ہے تو نماز مکروہ نہیں ہوگی کیونکہ اس میں اہانت ہے، احترام نہیں ہے، البتہ جاندار کی تصویر پر سجدہ کرنا مکروہ ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني بدنه لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين. قال في البحر ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض، ذكره الحلبي
قوله منصوبة) أي بحيث لا توطأ ولا يتكأ عليها قال في الهداية: ولو كانت الصورة على وسادة ملقاة أو على بساط مفروش لا يكره لأنها تداس وتوطأ، بخلاف ما إذا كانت الوسادة منصوبة أو كانت على الستر لأنها تعظيم لها (قوله والأظهر الكراهة) لكنها فيه أيسر لأنه لا تعظيم فيه ولا تشبه معراج، وفي البحر قالوا: وأشدها كراهة ما يكون على القبلة أمام المصلي، ثم ما يكون فوق رأسه ثم ما يكون عن يمينه ويساره على الحائط، ثم ما يكون خلفه على الحائط أو الستر. اهـ.
قلت: وكأن عدم التعظيم في التي خلفه وإن كانت على حائط أو ستر أن في استدبارها استهانة لها، فيعارض ما في تعليقها من التعظيم، بخلاف ما على بساط مفروش ولم يسجد عليها فإنها مستهانة من كل وجه، وقد ظهر من هذا أن علة الكراهة في المسائل كلها إما التعظيم أو التشبه على خلاف ما يأتي (قوله ولا يكره) قدر لا يكره مع قول المصنف الآتي لا لطول الفصل فيكون الآتي تأكيدا فافهم (قوله تحت قدميه) وكذا لو كانت على بساط يوطأ أو مرفقة يتكأ عليها كما في البحر والمرفقة وسادة الاتكاء كما في المغرب
قوله لا تتبين إلخ) هذا أضبط مما في القهستاني حيث قال بحيث لا تبدو للناظر إلا بتبصر بليغ كما في الكرماني، أو لا تبدو له من بعيد كما في المحيط ثم قال: لكن في الخزانة: إن كانت الصورة مقدار طير يكره، وإن كانت أصغر فلا. اهـ."
(کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ، ج:1،ص:647،ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير وفي البساط روايتان والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير وهذا إذا كانت الصورة كبيرة تبدو للناظر من غير تكلف."
(کتاب الصلاۃ، باب سابع، فصل ثانی، ج:1،ص:107،دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101289
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن