بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازیوں کی حفاظت کے لئے مسجد کی جماعت کا چھوڑنا


سوال

میں پچھلے دو تین سالوں سے ماہِ رمضان المبارک میں اپنی مقامی مسجد کے باہر نمازیوں کی حفاظت اور نظم و ضبط کے لیے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہا ہوں، یہ خدمت میں رضاکارانہ طور پر اور بلا معاوضہ انجام دیتا ہوں تاکہ نمازی حضرات اطمینان کے ساتھ عبادت کر سکیں ، چونکہ میری ذمہ داری مسجد کے باہر سیکیورٹی کی ہوتی ہےاس وجہ سے اکثر اوقات نمازِ تراویح ادا نہیں کر پاتا اور بعض اوقات فرض نمازیں بھی جماعت کے ساتھ ادا نہیں ہو پاتیں جنہیں بعد میں اکیلے ادا کر لیتا ہوں۔ اس سلسلے میں رہنمائی درکار ہے کہ: کیا اس طرح تراویح چھوڑ دینا اور فرض نماز جماعت سے رہ جانا شرعاً درست ہے ؟ جبکہ مقصد نمازیوں کی حفاظت ہو ،کیا اس خدمت کو انجام دیتے ہوئے میری نمازِ جماعت اور تراویح کا چھوڑنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر اس کام کو جاری رکھنا درست ہے تو عبادت اور ذمہ داری میں توازن کیسے قائم کیا جائے؟ کیا بہتر یہ ہے کہ سیکیورٹی کا کوئی متبادل انتظام کیا جائے تاکہ میں بھی جماعت اور تراویح میں شریک ہو سکوں؟

جواب

 واضح رہے کہ مردوں کے لئے  فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنت مؤکدہ  ہے جو کہ واجب کے قریب ہے،  کسی عذر کے بغیر   جماعت کی نماز ترک کرنے پر حدیث شریف میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا سائل کا ازخود رضا کارانہ طور پر نمازی حضرات کی حفاظت پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا  اورمستقل تراویح کی جماعت کا چھوڑنا  اور بعض وقت فرض نماز کی جماعت کا چھوڑنا مکروہ تحریمی ہے۔

اگر جماعت کی نماز کے وقت نمازیوں کی حفاظت پر کسی فرد کو بطور محافظ   مامور کرنے کی شدید حاجت ہو تو مسجد انتظامیہ /اہل محلہ  کو اس  صورت میں  سیکیورٹی کا ایسا نظام بنانا چاہیئے جس میں اس شخص کی بھی جماعت سے نماز نہ چھوٹنے پائے اور اگر مسجد کی جماعت فوت ہوجائے تو جائے حفاظت پر ہی دو تین افراد کے ساتھ مل کر  جماعت سے نماز ادا کرلی جائے۔

الدر المختار ميں ہے:

"(و الجماعة سنة مؤكدة للرجال)."

(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلوة، باب الامامة،552/1، سعيد)

حلبي کبیر میں ہے :

" وکذا الأحکام تدل علی الوجوب من أن تارکها من غیر عذر یعزر، وترد شهادته، ویأثم الجیران بالسکوت عنه، و هذہ کلها أحکام الواجب."

(كتاب الصلاة، فصل في الإمامة، ص: ٥٠٨، ط: سهيل اكيڈمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"وخوف على ماله (قوله وخوف على ماله) أي من لص ونحوه إذا لم يمكنه غلق الدكان أو البيت مثلا، ومنه خوفه على تلف طعام في قدر أو خبز في تنور تأمل، وانظر هل التقييد بماله للاحتراز عن مال غيره؟ والظاهر عدمه: لأن له قطع الصلاة له ولا سيما إن كان أمانة عنده كوديعة أو عارية أو رهن مما يجب عليه حفظه تأمل"

(کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،ج:1،ص:556،ط:سعید)

مراقی الفلاح میں ہے:

"وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها المبيحة للتخلف وكانت نيته حضورها لولا العذر الحاصل يحصل له ثوابها لقوله صلى الله عليه وسلم: ’’إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى."

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، مدخل، ص:113، ط:المكتبة المصرية)

فقط واللہ اعلم

 


فتویٰ نمبر : 144708101814

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں