
واضح رہے کہ مردوں کے لئے فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے جو کہ واجب کے قریب ہے، کسی عذر کے بغیر جماعت کی نماز ترک کرنے پر حدیث شریف میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا سائل کا ازخود رضا کارانہ طور پر نمازی حضرات کی حفاظت پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا اورمستقل تراویح کی جماعت کا چھوڑنا اور بعض وقت فرض نماز کی جماعت کا چھوڑنا مکروہ تحریمی ہے۔
اگر جماعت کی نماز کے وقت نمازیوں کی حفاظت پر کسی فرد کو بطور محافظ مامور کرنے کی شدید حاجت ہو تو مسجد انتظامیہ /اہل محلہ کو اس صورت میں سیکیورٹی کا ایسا نظام بنانا چاہیئے جس میں اس شخص کی بھی جماعت سے نماز نہ چھوٹنے پائے اور اگر مسجد کی جماعت فوت ہوجائے تو جائے حفاظت پر ہی دو تین افراد کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز ادا کرلی جائے۔
الدر المختار ميں ہے:
"(و الجماعة سنة مؤكدة للرجال)."
(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلوة، باب الامامة،552/1، سعيد)
حلبي کبیر میں ہے :
" وکذا الأحکام تدل علی الوجوب من أن تارکها من غیر عذر یعزر، وترد شهادته، ویأثم الجیران بالسکوت عنه، و هذہ کلها أحکام الواجب."
(كتاب الصلاة، فصل في الإمامة، ص: ٥٠٨، ط: سهيل اكيڈمی)
فتاوی شامی میں ہے:
"وخوف على ماله (قوله وخوف على ماله) أي من لص ونحوه إذا لم يمكنه غلق الدكان أو البيت مثلا، ومنه خوفه على تلف طعام في قدر أو خبز في تنور تأمل، وانظر هل التقييد بماله للاحتراز عن مال غيره؟ والظاهر عدمه: لأن له قطع الصلاة له ولا سيما إن كان أمانة عنده كوديعة أو عارية أو رهن مما يجب عليه حفظه تأمل"
(کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،ج:1،ص:556،ط:سعید)
مراقی الفلاح میں ہے:
"وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها المبيحة للتخلف وكانت نيته حضورها لولا العذر الحاصل يحصل له ثوابها لقوله صلى الله عليه وسلم: ’’إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، مدخل، ص:113، ط:المكتبة المصرية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101814
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن