بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 صفر 1448ھ 07 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

طواف کے دوران اور عام مساجد میں نمازی کے سامنے سے گزرنا


سوال

مطاف  میں طواف کرتے وقت اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے سامنے سے گزرنا جائز ہے، اگر جائز ہے تو یہ بھی بتائیں کہ مرور امام المصلی کے جواز کا حکم حرم مکی کے مطاف کے ساتھ خاص ہے یا کہیں اور بھی جائز ہے؟

جواب

نمازی کے سامنے سے گزرنے میں تفصیل یہ ہے کہ  چھوٹی مساجد میں نمازی کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ، بڑی مساجد میں نمازی کے مقام سے دو صفوں کے فاصلے سے گزرنا جائز ہے، بڑی مسجد وہ ہےجو پیمائش کے لحاظ سے چالیس شرعی گز لمبی اور چالیس شرعی گز چوڑی ہو وہ مسجدِ کبیر ہے، اور ایک شرعی گز ڈیڑھ فٹ (اٹھارہ انچ) کا ہوتا ہے، اس حساب سے مسجدِ کبیر وہ ہو گی جو ساٹھ فٹ لمبی اور ساٹھ فٹ چوڑی ہو، اور چھوٹی مسجد وہ ہے، جو مذکورہ مقدار سے کم ہے، نیز مسجد حرام میں طوا ف کرنے والے نمازی کی سجدہ گاہ کو چھوڑ کر گزر سکتےہیں۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں مطاف کے علاوہ باقی پوری مسجد حرام  میں نمازی کے سامنے سے نمازی کی جگہ سے دوصفوں کے فاصلےسے گزرنا جائز ہے، البتہ اگر شدید مجبوری کی حالت ہو تو اس میں بھی کھلے عام نمازی کے سجدے کی جگہ کے اندر سے گذرنے سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے، بلکہ اس صورت میں نمازی کے آگے کسی رومال، کپڑے یا چھڑی وغیرہ سے یا کسی دوسرے شخص کو آگے کر کے سترہ بنا کر گزرنا چاہیے۔

البتہ طواف کرنے والے کی حالت اس سے مستثنیٰ ہے، کیوں کہ  طواف نماز کے حکم میں ہے۔

لہذا طواف کے دوران نمازی کے سامنے سے گزرنا جائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: و مسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعًا، وقيل: من أربعين، وهو المختار، كما أشار إليه في الجواهر، قهستاني."

(کتاب الصلوٰۃ، باب الاستخلاف، فروع مشى المصلي مستقبل القبلة هل تفسد صلاته، ج: 1، ص: 634، ط: سعید)

وفیه أیضاً:

"ذكر في حاشية المدني لا يمنع المار داخل الكعبة وخلف المقام وحاشية المطاف، لما روى أحمد وأبو داود عن ’’المطلب بن أبي وداعة أنه رأى النبي - صلى الله عليه وسلم - يصلي مما يلي باب بني سهم والناس يمرون بين يديه وليس بينهما سترة‘‘ وهو محمول على الطائفين فيما يظهر لأن الطواف صلاة، فصار كمن بين يديه صفوف من المصلين انتهى."

(كتاب الصلاة، باب الإستخلاف، فروع مشى المصلي مستقبل القبلة هل تفسد صلاته، ج: 1، ص: 635، ط: سعید)

احسن الفتاویٰ میں ہے:

’’اگر اتنی چھوٹی مسجد یا کمرے یا صحن میں نماز پڑھ رہاہو کہ اس کا کل رقبہ۱۶۰۰ہاتھ = ۴۵۱ء۳۳۴ مربع میڑسے کم ہے، تو نمازی کے سامنے سے گزرنا مطلقاً ناجائز ہے، خواہ قریب سے گزرے یا دور سے، بہرحال گناہ ہے، البتہ اگر کھلی فضاء میں یا ۴۵۱ء ۳۳۴ مربع میٹر یا اس سے بڑی مسجد یا بڑے کمرے یا بڑے صحن میں نماز پڑھ رہاہے، تو سجدہ کی جگہ پر نظر جمانے سے آگے جہاں تک بالتبع نظر پہنچتی ہو، وہاں تک گزرناجائز نہیں، اس ہٹ کر گزرنا جائز ہے، بندہ نے اس کا اندازہ لگایا تو سجدہ کی جگہ سے ایک صف کے قریب ہو؛ لہذا نمازی کے موضعِ قیام سے دو صف کی مقدار (تقریباً آٹھ فٹ=۴۴ء۲ میٹر) چھوڑ کر گزرنا جائز ہے۔‘‘

(باب مفسدات الصلوٰۃ والمکروہات، ج:3، ص:409، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں