
اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہو اور دوسرا اس کے آگے نماز پڑھ رہا ہو، تو کیا اگلا نمازی کسی کام کے لیے اٹھ کر اس کے سامنے سے جا سکتا ہے؟
صورت مسئولہ میں نمازی کےسامنےبیٹھاشخص نمازی کے آگے سےاٹھ کرجاسکتاہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"أراد المرور بين يدي المصلي، فإن كان معه شيء يضعه بين يديه ثم يمر ويأخذه، ولو مر اثنان يقوم أحدهما أمامه ويمر الآخر ويفعل الآخر هكذا يمران."
(كتاب الصلاة، فروع مشى المصلي مستقبل القبلة، ج: 1، ص: 636، ط: سعید)
امدادالاحکام میں ہے:
اگر کوئی شخص پیچھے بالکل محاذات میں نمازپڑھ رہا ہو تو اس صورت میں وہاں سے الگ ہو جانا مرور بین المصلی میں داخل ہے یا نہیں، ؟
الجواب :محاذاة مصلی سے ہٹ جانا مرور نہیں، لیکن ایسے فعل سے عوام کو مرور کی جرات ہو جاتی ہے، اس لئے بہتر ہے کہ آگے سے نہ ہٹے بالخصوص جبکہ کوئی ضرورت ہٹنے کی نہ ہو۔
(کتاب الصلاۃ ، ج:1، حصہ دوم، ص: 809، ط: دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101400
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن