بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 صفر 1448ھ 31 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز وتر کا ثبوت/نماز وتر کے منکر کا حکم


سوال

کیا وتر کی نماز واجب ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کی صحاح  ستہ میں کوئی دلیل نہیں ہے،اگر ہے تو حوالہ دیں، اور کیا اس کا منکر کافر ہے یا نہیں؟ یہ اکثر سلفی حضرات اعتراضات کرتے ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے؟اور یہ کس راستے پر ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام میں کل پانچ نمازیں فرض ہیں،ان کے علاوہ ایک اور نماز ہے،جس کی احادیث مبارکہ میں بہت تاکید آئی ہے،اور وہ وتر کی نماز  ہے،چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازوں کے علاوہ ایک اضافی نماز تمہارے لیے مقرر فرمائی ہے، خوب غور سے سن لو کہ وہ وتر کی نماز ہے، پس اسے عشا اور طلوع فجر کے درمیان پڑھو، اسی لیے  رسول اللہ ﷺ خود بھی ہمیشہ وتر کی نماز پڑھا کرتے تھے، اور آپ ﷺ نے امت کو بھی انتہائی تاکید کے ساتھ وتر کی نماز پڑھنے حکم فرمایا ہے،اس بنا پر فقہاء کرام نے وتر کی نماز کو واجب قرار دیا ہے۔نیز ہر چیز کے ثابت ہونے کے لیے اس کا صحاح ستہ میں ہونا ضروری نہیں،لہذا بعض لوگوں کا یہ اعتراض درست نہیں کہ وتر کی نماز ثابت نہیں ،اس لیے کہ صحاح ستہ میں نہیں ہے،اگر چہ سنن ابو داود  وغیرہ میں وتر کے متعلق صریح احادیث موجود ہے۔

وتر کی نماز چونکہ دلیل قطعی سے ثابت نہیں،اس لیے اس کا منکر کافر نہیں ہوگا ،بلکہ فاسق وفاجر اور گمراہ ہوگا،لہذا جو شخص بھی وتر کا انکار کرے،تو وہ فاسق اور گمراہ ہے۔

سنن ابو داود میں ہے:

"حدثنا ابن المثنى، حدثنا أبو إسحاق الطالقاني، حدثنا الفضل بن موسى، عن عبيد الله بن عبد الله العتكي، عن عبد الله بن بريدة عن أبيه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "الوتر حق، فمن لم يوتر، فليس منا، الوتر حق، فمن لم يوتر فليس منا، الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا."

ترجمہ:" وتر کی نماز حق ( واجب و  ضروری) ہے، جو شخص وتر کی نماز نہ پڑھے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں،وتر کی نماز حق ہے، جو شخص وتر کی نماز نہ پڑھے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں،وتر کی نماز حق  ہے، جو شخص وتر کی نماز نہ پڑھے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔"

(‌‌ كتاب الصلاة‌‌، باب تفريع أبواب الوتر، ج: 2، ص:559، ط:دار الرسالة العالمية)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن خارجة بن حذافة أنه قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "إن الله أمدكم بصلاة هي خير لكم من حمر النعم، الوتر، جعله الله لكم فيما بين صلاة العشاء إلى أن يطلع الفجر".

ترجمہ:  "  حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلمہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز عطا فرمائی ہے، وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے،اور وہ وتر کی نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز تمہارے لیے نماز عشا کے بعد سے صبح ہونے تک مقرر کی ہے۔"

(أبواب الوتر، باب ما جاء في فضل الوتر، ج:2، ص:5، ط:دار الرسالة العالمية)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"(فلا يكفر) بضم فسكون: أي لا ينسب إلى الكفر (جاحده)"

(كتاب الصلاة،باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:4، ط:ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"روى خارجة بن حذافة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «إن الله تعالى زادكم صلاة ألا وهي الوتر فصلوها ما بين العشاء إلى طلوع الفجر» والاستدلال به من وجهين: أحدهما أنه أمر بها ومطلق الأمر للوجوب، والثاني أنه سماها زيادة والزيادة على الشيء لا تتصور إلا من جنسه فأما إذا كان غيره فإنه يكون قرانا لا زيادة ولأن الزيادة إنما تتصور على المقدر وهو الفرض، فأما النفل فليس بمقدر فلا تتحقق الزيادة عليه، ولا يقال: إنها زيادة على الفرض لكن في الفعل لا في الوجوب؛ لأنهم كانوا يفعلونها قبل ذلك ألا ترى أنه قال: ألا وهي الوتر؟ ذكرها معرفة بحرف التعريف، ومثل هذا التعريف لا يحصل إلا بالعهد ولذا لم يستفسروها. ولو لم يكن فعلها معهودا لاستفسروا فدل أن ذلك في الوجوب لا في الفعل، ولا يقال: إنها زيادة على السنن؛ لأنها كانت تؤدى قبل ذلك بطريق السنة. وروي عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «أوتروا يا أهل القرآن فمن لم يوتر فليس منا» ومطلق الأمر للوجوب، وكذا التوعد على الترك دليل الوجوب، وروى أبو بكر أحمد بن علي الرازي بإسناده عن أبي سليمان ابن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «الوتر حق واجب فمن لم يوتر فليس منا» وهذا نص في الباب، وعن الحسن البصري أنه قال: أجمع المسلمون على أن الوتر حق واجب، وكذا حكى الطحاوي فيه إجماع السلف ومثلهما لا يكذب؛ ولأنه إذا فات عن وقته يقضى عندهما وهو أحد قولي الشافعي، ووجوب القضاء عن الفوات لا عن عذر يدل على وجوب الأداء؛ ولذا لا يؤدى على الراحلة بالإجماع عند القدرة على النزول، وبعينه ورد الحديث وذا من أمارات الوجوب والفرضية ولأنها مقدرة بالثلاث والتنفل بالثلاث ليس بمشروع."

(‌‌كتاب الصلاة‌‌، فصل في أنواع الصلاة الواجبة ومنها صلاة الوتر، 1/ 271، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں