بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں رکعت کی تعداد بھول جانے اور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے کا حکم


سوال

فرض نماز میں اگر رکعت بھول جائیں کہ یہ چوتھی رکعت پڑھی ہے  یا تیسری ؟یاد کرنے پر بھی یاد نہ آئے تو کیا سجدہ سہو سے نماز ادا ہو جائے گی یا دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی ؟دوم یہ کہ چار رکعت فرض نماز میں اگر دوسری رکعت میں بھول کر درود شریف پوراپڑھ لینے کے بعد یاد آئے کہ ابھی دوسری رکعت ہے تو کیا کریں نماز کو ختم کر دیا جائے سلام پھیر کر یا وہی نماز جاری رکھی جائے اور آخری رکعت میں سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہو جائے گی یا دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی؟

جواب

1۔واضح  رہے کہ اگر کوئی شخص نماز کے دوران رکعات کی تعداد بھول جائے  اور اس کو یاد نہ ہو کہ اس نے چار رکعت پڑھی ہیں یا تین ؟ تو اس کا حکم یہ ہے کہ:

  1.   اگر  اس کا بھولنا پہلی مرتبہ ہوا ہے یا زندگی میں شاذ ونادر ایسا ہو تو  اسے نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے۔
  2. اگر شک ہوتا رہتا ہے اور رکعتوں کی تعداد بھولتا رہتا ہے تو پھر غالب گمان پر عمل کرنا چاہیے، یعنی جتنی رکعتیں غالب گمان سے اس کو یاد پڑیں، اسی قدر رکعتوں کے بارے میں  یہ خیال کرے کہ پڑھ چکا ہے، اگر اس حساب سے تین ہوچکی ہیں تو مزید ایک رکعت پڑھ کر نماز مکمل کرے اور سجدہ سہو کرے، اور اگر اس کے حساب سے چار رکعت ہوچکی ہیں تو آخر میں سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے۔
  3.  اور اگر غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو کمی کی جانب اختیار کرے مثلاً کسی کو تین یا چار رکعت میں شک ہوجائے اور یہ شک پہلی مرتبہ نہ ہوا ہو اور غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ تین رکعتیں شمار کرے اور ایک رکعت مزید پڑھ کر  نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے۔

آخری دونوں صورتوں میں اگر سجدہ سہو کرنا بھول گیا  اور نماز کا وقت باقی ہے تو اس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے، اور اگر نماز کا وقت گزرگیا ہو تو اب اعادہ کرنے کی تاکید کم ہے، البتہ اس نماز کا اعادہ کرلینا زیادہ بہتر ہے۔

2۔چار رکعت والی فرض نماز یا سنتِ مؤکدہ کی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد کچھ نہ بڑھانا واجب ہے، لہٰذا درود شریف یا کوئی بھی دعا پڑھنا ممنوع ہے، اگر کسی نے بھول کر اللّٰهم صل على محمد یا اس کی مقدار یا اس سے زیادہ کوئی چیز پڑھ لی تو اس پر سجدۂ سہو لازم آئے گا اور  آخری رکعت میں سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہوجائے گی۔

الدر المختار میں ہے:

"(‌وإذا ‌شك)‌في ‌صلاته (‌من ‌لم ‌يكن ‌ذلك) أي الشك (عادة له) وقيل من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه، وعليه أكثر المشايخ.بحر عن الخلاصة (كما صلى استأنف) بعمل مناف وبالسلام قاعدا أولى لانه المحلل (وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالاقل) لتيقنه."

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب: سجود السهو، ج: 2، ص: 92، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

''(ولا يصلى على النبي - صلى الله عليه وسلم - في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها) ولو صلى ناسيا فعليه السهو."

(كتاب الصلاة،  باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:16، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101298

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں