
فرض نماز میں اگر رکعت بھول جائیں کہ یہ چوتھی رکعت پڑھی ہے یا تیسری ؟یاد کرنے پر بھی یاد نہ آئے تو کیا سجدہ سہو سے نماز ادا ہو جائے گی یا دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی ؟دوم یہ کہ چار رکعت فرض نماز میں اگر دوسری رکعت میں بھول کر درود شریف پوراپڑھ لینے کے بعد یاد آئے کہ ابھی دوسری رکعت ہے تو کیا کریں نماز کو ختم کر دیا جائے سلام پھیر کر یا وہی نماز جاری رکھی جائے اور آخری رکعت میں سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہو جائے گی یا دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی؟
1۔واضح رہے کہ اگر کوئی شخص نماز کے دوران رکعات کی تعداد بھول جائے اور اس کو یاد نہ ہو کہ اس نے چار رکعت پڑھی ہیں یا تین ؟ تو اس کا حکم یہ ہے کہ:
آخری دونوں صورتوں میں اگر سجدہ سہو کرنا بھول گیا اور نماز کا وقت باقی ہے تو اس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے، اور اگر نماز کا وقت گزرگیا ہو تو اب اعادہ کرنے کی تاکید کم ہے، البتہ اس نماز کا اعادہ کرلینا زیادہ بہتر ہے۔
2۔چار رکعت والی فرض نماز یا سنتِ مؤکدہ کی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد کچھ نہ بڑھانا واجب ہے، لہٰذا درود شریف یا کوئی بھی دعا پڑھنا ممنوع ہے، اگر کسی نے بھول کر اللّٰهم صل على محمد یا اس کی مقدار یا اس سے زیادہ کوئی چیز پڑھ لی تو اس پر سجدۂ سہو لازم آئے گا اور آخری رکعت میں سجدہ سہو کرنے سے نماز ادا ہوجائے گی۔
الدر المختار میں ہے:
"(وإذا شك)في صلاته (من لم يكن ذلك) أي الشك (عادة له) وقيل من لم يشك في صلاة قط بعد بلوغه، وعليه أكثر المشايخ.بحر عن الخلاصة (كما صلى استأنف) بعمل مناف وبالسلام قاعدا أولى لانه المحلل (وإن كثر) شكه (عمل بغالب ظنه إن كان) له ظن للحرج (وإلا أخذ بالاقل) لتيقنه."
(كتاب الصلاة، باب: سجود السهو، ج: 2، ص: 92، ط: سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
''(ولا يصلى على النبي - صلى الله عليه وسلم - في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها) ولو صلى ناسيا فعليه السهو."
(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:16، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101298
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن