بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا حکم


سوال

نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ با ندھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

حنفیہ کے نزدیک مردوں کےلیےنماز میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا سنت ہے اور  یہی راجح ہے  ۔البتہ  عورتوں  کاسینے  کے اوپر ہاتھ باندھنا سنت ہے اور اسی میں ان کے لیے  زیادہ ستر ہے ۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن أبي جحيفة: أن عليا رضي الله عنه قال [ من ] السنة وضع الكف على الكف في الصلاة تحت السرة."

( کتاب الصلوۃ، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة، ج:1، ص:200، ط:المکتبۃ العصریۃ)

ترجمہ:" حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ نماز میں  ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھا جائے۔

فتح القدیر میں  ہے:

"قال (ويعتمد بيده اليمنى ‌على ‌اليسرى ‌تحت ‌السرة) لقوله عليه الصلاة والسلام «إن من السنة وضع اليمين على الشمال تحت السرة."

قال ابن الھمام:

"(قوله لقوله عليه الصلاة والسلام) لا يعرف مرفوعا، بل عن علي: من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف تحت السرة رواه أبو داود وأحمد."

(‌‌كتاب الصلاة‌‌، باب صفة الصلاة،ج:1، ص:287، ط:دار الفكر)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

و" يسن "وضع المرأة يديها على صدرها من غير تحليق" لأنه أستر لها .

قوله: "ويسن وضع المرأة يديها الخ" المرأة تخالف الرجل في مسائل منها هذه ومنها."

(‌‌كتاب الصلاة،‌‌باب شروط الصلاة وأركانها،‌‌فصل في بيان سننها،258،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704102154

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں