بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں لا یوثق کی جگہ لایوسق پڑھنے سے نماز کا حکم


سوال

نمازمیں"ولایوثق "کی جگہ "ولا یوسق "پڑھنےسے نماز فاسد ہوجاتی ہےیانہیں؟

جواب

 صورت مسئولہ میں کسی شخص کا نماز میں "لايوثق"کی جگہ "لايوسق"پڑھنے سے معنی میں تغیر فاحش پیدا نہیں ہو ا ہے،لہذا نماز فاسد نہیں ہوئی ہے ۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"الخطأ إذا دخل في الحرف، لاتفسد؛لأن في هذا بلوى عامة الناس لايقيمون الحرف، ولا يمكنهم إقامتها إلا بمشقة."

(كتاب الصلاة، الفصل الثاني،ج:2،ص:94،ط: المكتبة الفاروقية كوئته)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي تاتارخانية عن الحاوي: حكى عن الصفار أنه كان يقول: الخطأ  إذا دخل في الحروف لا يفسد؛لأن فيه بلوى عامةالناس؛ لأنهم لا يقيمون الحروف إلا بمشقة. وفيها:إذا لم يكن  بين الحرفين اتخاذ المخرج ولا قربه إلا أن فيه بلوى عامة الناس  كالذال مع الضاد أو الماء المحض مكان الذال والظاء مكان الضاد لا تفسد عند بعض المشائخ .

قلت: فينبغي أن لا يفسد في إبدال البخقاء سينا والقاف همزة  كما هو لغة عوام زماننا."

(كتاب الصلاة،مطلب إذا قرأ_تعالى جد_بدون ألف لا تفسد،ج:1،ص:633،ط:سعيد)

وفيه أيضاً:

"إن تعمد ذلك تفسد،وإن جرى على لسانه أو لايعرف التمييز لا تفسد وهو المختار."

(كتاب الصلاة، مطلب إذا قرأ _تعالى جد_بدون ألف لا تفسد،ج:1،ص:633،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101852

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں