
میری عمر تقریباً 43 سال ہے۔ میں نے اب تک جتنی فرض، واجب، سنت اور نفل نمازیں ادا کی ہیں، ان میں عموماً سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص ہی پڑھتا رہا، حالانکہ مجھے قرآنِ مجید کی دوسری سورتیں بھی یاد ہیں۔ بعض لوگوں نے مجھے توجہ دلائی کہ نماز میں مختلف سورتیں پڑھنی چاہییں اور ہمیشہ ایک ہی سورت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، لیکن میں اس بات پر عمل نہ کر سکا۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طویل عرصے تک ایک ہی سورت پڑھتے رہنے کی وجہ سے اگر نماز کے ثواب یا فضیلت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہو، تو اس کی تلافی کس طرح کی جاسکتی ہے؟
اگر کسی کو متعدد سورتیں یاد ہوں تو نماز کی ہر رکعت میں مختلف سورتیں پڑھنی چاہئیں، کیونکہ ایک ہی سورت پر ہمیشہ اکتفا کرنے کو فقہاء نے مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے۔ لہٰذا بہتر یہ تھا کہ ہر رکعت میں الگ سورت پڑھی جاتی، تاہم اس کی وجہ سے نماز میں کوئی خلل نہیں آیا، نماز ہو گئی، البتہ آئندہ دیگر سورتوں کی تلاوت کا بھی اہتمام کریں۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
"(يكره تكرار السورة في ركعة واحدة من الفرض) وكذا تكرارها في الركعتين إن حفظ غيرها وتعمده لعدم وروده فإن لم يحفظه وجب قراءتها لوجوب ضم السورة للفاتحة."
(كتاب الصلاة،فصل في المكروهات،ص: 352،ط: دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711102231
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن