بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں آیت چھوٹ جانے کی وجہ سے کیا نماز فاسد ہوجاتی ہے؟


سوال

اگر نماز میں سورت کے درمیان میں سے کوئی ایک آیت چھوٹ گئی، تو کیا نماز ہو جائے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ   میں  اگر مقدارِ واجب قراءت مکمل ہوجائے، یعنی مجموعی طور پر تین مختصر آیات کے برابر مقدار تلاوت ہوجائے، اور چھوٹی ہوئی آیت سے پہلی والی آیت پر وقف بھی کیا گیا ہو، یا سابقہ آیت پر وقف کیے بغیر اگلی آیت ملا کر پڑھی جائے اور معنی میں تغیر فاحش نہ ہو تو نماز ہو جاتی ہے۔

اگر سوال کا منشأ کچھ اور ہو تو پوری وضاحت سے لکھ کر جواب معلوم کیا جاسکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها ذكر آية مكان آية) لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفا تاما ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لا تفسد كما لو قرأ {والعصر - إن الإنسان} [العصر: 1 - 2] ثم قال {إن الأبرار لفي نعيم} [الانفطار: 13] ، أو قرأ {والتين} [التين: 1] إلى قوله {وهذا البلد الأمين} [التين: 3] ووقف ثم قرأ {لقد خلقنا الإنسان في كبد} [البلد: 4] أو قرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [البينة: 7] ووقف ثم قال {أولئك هم شر البرية} [البينة: 6] لا تفسد. أما إذا لم يقف ووصل - إن لم يغير المعنى - نحو أن يقرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [الكهف: 107] "فلهم جزاء الحسنى" مكان قوله {كانت لهم جنات الفردوس نزلا} [الكهف: 107] لا تفسد. أما إذا غير المعنى بأن قرأ " إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية إن الذين كفروا من أهل الكتاب " إلى قوله " خالدين فيها أولئك هم خير البرية " تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح. هكذا في الخلاصة".

كتاب الصلاة ، الباب الرابع، الفصل الخامس، ج:1، ص:80، ط:دار الفكر)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100253

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں