بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں آنکھیں بند کرنا کیساہے؟


سوال

نماز میں آنکھیں بند کرنا کیساہے؟

جواب

نماز میں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنامکروہ ہے، اگر خشوع وخضوع  میں خلل کا اندیشہ ہو یا آنکھیں  بند کرنے سے خشوع وخضوع پیدا ہوتا ہو، تو مکروہ نہیں۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وكره)...(وتغميض عينيه) للنهي إلا لكمال الخشوع.(قوله للنهي) أي في حديث "إذا قام أحدكم في الصلاة فلا يغمض عينيه" رواه ابن عدي إلا أن في سنده من ضعف وعلل في البدائع بأن السنة أن يرمي ببصره إلى موضع سجوده، وفي التغميض تركها. ثم الظاهر أن الكراهة تنزيهية، كذا في الحلية والبحر، وكأنه لأن علة النهي ما مر عن البدائع، وهي الصارف له عن التحريم (قوله إلا لكمال الخشوع) بأن خاف فوت الخشوع بسبب رؤية ما يفرق الخاطر فلا يكره، بل قال بعض العلماء إنه الأولى، وليس ببعيد حلية وبحر.

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 645، ط: سعيد)

فتاویٰ رشیدیہ میں ہے:

”(سوال): مسئلہ: امام غزالی علیہ الرحمہ نے کیمیائے سعادت میں لکھا ہے کہ نماز اندھیرے میں پڑھے یا آنکھیں بند کر لیا کرے، تاکہ نظر منتشر نہ ہو اور حضورِ قلب میسر ہو۔ لہٰذا عرض ہے کہ شرع کا مسئلہ ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے نماز مکروہ ہو جاتی ہے، اور جہاں سجدہ کی جگہ نہ دیکھے، وہ بھی نماز مکروہ ہوگی۔ لہٰذا اگر واسطے حضورِ قلب کے آنکھیں بند کر کے نماز پڑھے، تو حضور کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ اور نمازِ تہجد و وتر تو ہمیشہ اندھیرے میں پڑھتا ہوں، اور آج کل چونکہ اندر مکان میں سوتا ہوں، تو سنتیں فجر کی بھی اندھیرے میں پڑھتا ہوں۔ لہٰذا سجدہ کی جگہ نہ دیکھنے کا کیا مطلب؟

(جواب): بہ نیتِ خشوع و بقصدِ دفعِ خطرات و وساوس اگر نماز میں آنکھیں بند کرے، تو کراہت نہ ہوگی۔ ایسے ہی ضرورت کے وقت، معروف جگہ پر، جہاں جہتِ قبلہ بھی مشتبہ نہ ہو اور نہ کوئی اندیشہ ہو، نماز درست ہے۔ فقط واللہ اعلم۔"

(کتاب الصلاۃ، باب: کن امور سے نماز میں کراہت آتی ہے اور کن سے نہیں، عنوان: نماز میں آنکھیں بند کرنا، ص: 344، ط: عالمی مجلس تحفظِ اسلام)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

”(سوال 166): فرض نماز میں مقتدی امام کی قراءت کے وقت یا خود امام قراءت کے وقت آنکھ بند کرے، اور آنکھ بند کرنے سے خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہو، تو اس صورت میں آنکھیں بند کرنا کیسا ہے؟

(الجواب): بلا کسی ضرورت و مصلحت کے، نماز میں آنکھیں بند رکھنا مکروہ ہے۔ البتہ اگر سامنے کوئی ایسی چیز ہو جو خشوع و خضوع میں خلل انداز ہوتی ہو، یا آنکھیں بند کرنے سے خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہو، یا کمالِ خشوع کے لیے معین ہو، تو پھر مکروہ نہیں۔“

(کتاب الصلاۃ، باب: مکروہاتِ صلاۃ، عنوان: نماز میں آنکھیں بند کرنا کیسا ہے؟، جلد: 5، صفحہ: 143/144، ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702102170

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں