
اگر تراویح میں امام سجدہ تلاوت کرنا بھول جاۓ اور وہ رکعت مکمل ہو جاۓ تو اس سجدہ تلاوت کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ نماز کا سجدہ تو نماز میں ہی ادا ہوتا ہے۔
اگر نماز میں آیتِ سجدہ پڑھنے کے بعد اس رکعت میں سجدۂ تلاوت نہ کیا تو سلام پھیرنے تک جب یاد آئے سجدہ تلاوت کرلے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے، لیکن اگر دوسری رکعت میں سجدۂ تلاوت کیا اور آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا اور نماز کا وقت باقی ہے تو ان دو رکعتوں کا اعادہ کرلیا جائے اور اگر وقت نکل چکا ہو تو اعادہ واجب نہیں ہے۔ اور اگر نماز میں بالکل بھی سجدۂ تلاوت نہ کیا اور سلام پھیرنے کے بعد نماز کے منافی کام (مثلاً بات چیت کرنا، کھانا پینا، سینہ قبلے سے پھیرلینا) کرلیا تو اس کے بعد چھوٹے ہوئے سجدۂ تلاوت کی تلافی کی صورت نہیں ہے، اب نماز اور تلاوت کے اعادے کی ضرورت نہیں، البتہ خطا پر استغفار کرنا چاہیے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"المصلي إذا نسي سجدة التلاوة في موضعها ثم ذكرها في الركوع أو السجود أو في القعود فإنه يخر لها ساجدا ثم يعود إلى ما كان فيه ويعيده استحسانا وإن لم يعد جازت صلاته، كذا في الظهيرية في فصل السهو."
(كتاب الصلاة ، الباب الثالث عشر ، جلد :1 ، صفحه : 134 ، طبع : دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100936
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن