
نماز کی فرضیت کب سے ہے ،بالغ ہونے سے پہلے سات سال کی عمر میں یا بالغ ہونے کے بعد ؟
نماز کی فرضیت بالغ ہونے کے بعد ہوتی ہے، سات سال کی عمر میں نہیں۔ سات سال کی عمر میں میں والدین کو بچوں کو نماز کا حکم دینے کا حدیث شریف میں آیا ہے تاکہ عادت پڑ جائے، لیکن اس عمر میں نماز شرعاً فرض نہیں ہوتی۔
سنن أبي داود میں ہے:
"عنْ عمرو بنِ شُعيبٍ عنْ أبيهِ عنْ جدِّه، قالَ: قالَ رسولُ اللهِ -صلّى الله عليه وسلّم-:"مُرُوْا أوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أبناءُ سَبْعِ سِنِيْنَ، وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ، وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ".
(سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب متى يؤمر الغلام بالصلاة،ج:1 ص:133، رقم:495، ط: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)
در المختار میں ہے:
"(هي فرض عين على كل مكلف)(قوله: هي) أي الصلاة الكاملة، وهي الخمس المكتوبة.(قوله: على كل مكلف) أي بعينه ثم المكلف هو المسلم البالغ العاقل ولو أنثى أو عبدا.(قوله: بالإجماع) أي وبالكتاب والسنة."
(كتاب الصلاة، ج:1 ص:351/352 ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102250
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن