بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

نماز کی فرضیت کا ضابطہ


سوال

نماز کن لوگوں پر فرض ہے ؟

جواب

لڑکے اور لڑکی پر بالغ ہونے کے بعد نماز  فرض ہوجاتی ہے، بالغ ہونے کی علامت یہ ہےکہ لڑکے کو احتلام یا انزال ہوجائے اور لڑکی کو حیض آجائے یا وہ حاملہ ہوجائے،  اگر بلوغت کی کوئی علامت نہ پائی جائے تو قمری حساب سے پندرہ سال کی عمر ہونے پر انہیں بالغ تسلیم کیا جائے گا اور ان پر نماز  فرض ہوجائے گی۔

البتہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کو اس بات کی تاکید کی ہے کہ جب بچہ/بچی سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کا حکم دیا جائے اور دس سال کے ہونے پر نماز نہ پڑھنے پر سرزنش کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملحوظ رہے کہ لڑکے لیے بلوغت کی کم سے کم عمر بارہ سال ہے، جب کہ لڑکی کے لیے بلوغت کی کم سے کم عمر نو سال ہے۔

مسند احمد و سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((مُرُوا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عَشْر، وفرقوا بينهم في المضاجع)). رواه أحمد وأبو داود، وهو الصحيح".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 153):

"(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحاً؛ لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنةً، به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201074

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں