
مجھے بچپن سے معدہ کامسئلہ ہے، کھانے کے بعد الٹیاں ہوتی ہیں، حضرت اگر میں نماز میں ہوں اور الٹی آجائےتو کیانماز ٹوٹ جائے گی؟
کبھی ڈکار کے ساتھ ہلکی سی الٹی آتی ہے اور کبھی آدھامنہ بھرکرالٹی آتی ہےاوراگر میں نماز میں ہوں اور اس کو اندر لے لیتی ہوں تو کیانماز صحیح ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر نماز کے دوران منہ بھر کر الٹی آ جائے اور نکل جائےتو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا، دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھے۔
اور اگر منہ بھر کر الٹی نہ ہو تو اس صورت میں نہ وضو ٹوٹے گا اور نہ ہی نماز فاسد ہوگی۔
اور اگر الٹی آ جائے اور پھر جان بوجھ کر اسے دوبارہ لوٹا لیا تو اس سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"إذا قاء ملء الفم تنتقض طهارته ولا تفسد صلاته وإن قاء ملء أقل من ملء الفم لا تنتقض طهارته ولا تفسد صلاته وإن قاء ملء الفم وابتلعه وهو يقدر على أن يمنعه تفسد صلاته وإن لم يكن ملء الفم لا تفسد صلاته في قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وتفسد في قول محمد - رحمه الله تعالى - والأحوط قوله كذا في فتاوى قاضي خان وإن تقيأ فإن كان أقل من ملء الفم لم تفسد صلاته وإن كان ملء الفم تفسد صلاته. كذا في المحيط.."
(کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الأول، ج:1، ص: 102، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101370
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن