بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران کوئی نامحرم آجائے تو پردہ کا حکم


سوال

نماز کے دوران کوئی نامحرم آجائے تو  پردہ کیسے کیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نماز پڑھتی ہوئی عورت کو کوئی نا محرم دیکھ لے یا وہ اس کے قریب سے گزر جائے تو اس سے عورت کی نماز فاسد نہیں ہوتی،تاہم عورت کو چاہیےکہ وہ  ایسی جگہ نماز نہ پڑھے جہاں نامحرم کے آنے جانےیا اُس کی نظروں میں آنے کا خدشہ ہو۔البتہ  اگر مجبوری ہو مثلاً بس اسٹاپ، اسٹیشن یا کسی عوامی مقام پر نماز پڑھنی پڑجائےاور تنہائی کی جگہ نہ ملے توایسی صورت میں عورت کو چہرے پر نقاب ڈال کر  یا چادر سے گھونگٹ کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر نماز کے دوران کوئی نامحرم آ جائے تو عورت کو چاہیے کہ حتیٰ الامکان اپنے چہرے کو چادر کے ذریعے گھونگٹ کر لے یا نقاب ڈال لے تاکہ پردہ قائم رہے، اور اسی حالت میں اپنی نماز مکمل کر لے ،  کیوں کہ  عام حالات میں اگر چہ  مرد اور عورت دونوں کا بلاعذر چہرہ ڈھانپ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، لیکن  شریعت میں پردہ کا معاملہ زیادہ سخت ہے، اِس لیے  جہاں بےپردگی کا اندیشہ ہو وہاں نقاب و پردہ کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

مرقاة المفاتیح میں ہے: 

"(وعن ابن مسعود قال: قال النبي) : وفي نسخة رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صلاة المرأة في بيتها) أي الداخلاني لكمال سترها (أفضل من صلاتها في حجرتها) أي: صحن الدار، قال ابن الملك: أراد بالحجرة ما تكون أبواب البيوت إليها، وهي أدنى حالا من البيت، (وصلاتها في ‌مخدعها) : بضم الميم وتفتح وتكسر مع فتح الدال في الكل، وهو البيت الصغير الذي يكون داخل البيت الكبير يحفظ فيه الأمتعة النفيسة، من الخدع، وهو إخفاء الشيء، أي: في خزانتها (أفضل من صلاتها في بيتها) : لأن مبنى أمرها على التستر، ولذا قيل: نعم الصهر القبر."

(کتاب الصلاة، باب الجماعة وفضلها، ج:3، ص:837، ط:دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ويكره ‌أن ‌يغطي ‌فاه في الصلاة؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ذلك؛ ولأن في التغطية منعا من القراءة والأذكار المشروعة."

(كتاب الصلاة، ‌‌فصل بيان ما يستحب في الصلاة وما يكره، ج:1، ص:216، ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں