بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکنے کا صحیح طریقہ


سوال

ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، اس کے سامنے سے ایک آدمی گزرنے لگا تو نمازی نے ہاتھ بڑھا کر اسے گزرنے سے روک دیا۔ روکنے کے دوران نمازی کا ہاتھ اس شخص کے پیٹ پر لگا اور اس نے اسے ہلکے سے پیچھے کی طرف دھکا دے دیا۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت  میں نمازی کی نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا نماز برقرار رہی یا فاسد ہوگئی؟

جواب

واضح رہے کہ نماز پڑھتے وقت سامنے سترہ  رکھ کر یا دیوار یا ستون کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنی چاہیے، تاکہ دوسرے نمازیوں کے گزرنے میں رکاوٹ نہ ہو،البتہ اگر کوئی نمازی کے سامنے سے گزرنے لگے تو اسے اشارے سے روکنا چاہیے، یا جس جگہ نماز ادا کی جا رہی ہو وہاں قدرے بلند آواز سے تلاوت کر لی جائے تاکہ گزرنے والے کو علم ہو جائے،لیکن اس سے زیادہ سختی یا ہاتھا پائی نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ اگر ایسا کیا جائے تو یہ عمل کثیر شمار ہوگا، جس سے نماز فاسد ہو سکتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نمازی کا اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روکنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاکر روکنے سے نماز فاسد نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کی قضا لازم ہے، اگرچہ اس دوران اس کا ہاتھ گزرنے والے کے پیٹ سے لگا اور  اسے ہلکا سا پیچھے دھکیل دیا، البتہ اس طرح کی حرکت عمل کثیر کے قریب ہونے کی وجہ سے نماز کو مکروہ کر دیتی ہے، اگرچہ اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

 "ويدرأ المار إذا لم يكن بين يديه سترة أو مر بينه وبين السترة بالإشارة أو بالتسبيح كذا في الهداية قالوا هذا في حق الرجال أما النساء فإنهن يصفقن."

(کتاب الصلاۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الأول فيما يفسدها، ج: 1، ص: 104، ط: دارالفکر  بیروت)

البحرالرائق میں ہے: 

"الخامس عشر درء المار بين يديه قالوا ويدرؤه إن لم يكن سترة أو مر بينه وبينها للأحاديث الواردة وهو بالإشارة باليد أو بالرأس أو بالعين أو بالتسبيح وزاد الولوالجي أنه يكون برفع الصوت بقراءة القرآن وينبغي أن يكون محله في الصلاة الجهرية فيما يجهر فيه منها وفي الهداية ويكره الجمع بين التسبيح والإشارة لأن بأحدهما كفاية قالوا هذا في حق الرجال أما النساء فإنهن يصفقن للحديث وكيفيته أن تضرب بظهور أصابع اليمنى على صفحة الكف من اليسرى ولأن في صوتهن فتنة فكره لهن التسبيح كذا في غاية البيان."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 2، ص: 19، ط: دارالكتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100309

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں