بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کرسی پر نماز سے متعلق بعض مسائل


سوال

1۔کیا جو شخص زمین پر  نہیں  بیٹھ سکتا اور وہ کرسی پر نماز پڑھنا چاہتا ہےلیکن وہ قیام اور رکوع کر سکتا ہے، تو کیا اس پر قیام اور رکوع فرض ہیں،  یا سجدہ کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے اس سے قیام اور رکوع دونوں ساقط ہوجائیں گے؟ اس مسئلہ پر ”نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا“  میں میری ناقص سمجھ کے  اعتبار سے دو متضاد باتیں درج ہیں: 

1ــــ۔ اسی طرح جو شخص فرض نماز میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں لیکن کچھ دیر کھڑا ہوسکتا ہے، ایسے شخص کے لیے اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے اگرچہ کسی چیز کا سہارا لینا پڑے، اس کے بعد وہ بقیہ نماز زمین یا کرسی پر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔

(نماز کے مسائل  کا انسائیکلوپیڈیا ج: 3 ص: 314 )

2۔ بعض لوگ قیام بھی کرتے ہیں اور رکوع بھی کرتے ہیں،  لیکن زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے پھر سجدہ اور جلسہ کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے کرتے  ہیں،  ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ایسے لوگ شروع سے کرسی یا زمین پر بیٹھ کر اشارے سے رکوع اور سجدہ کرکے نماز پوری کریں،  کچھ نماز کھڑے ہوکر اور کچھ نماز کرسی پر بیٹھ کر اشارہ سے پڑھنا بہتر نہیں،  اگرچہ اس طرح بھی نماز پڑھنے سے نماز ہوجاتی ہے۔ 

(ایضاً ص: 318 )

2۔کرسی پر نماز پڑھنے والا شخص اگر کھڑے ہوکر قیام اور رکوع ادا کرے تو اس صورت میں چونکہ وہ نمازی بقیہ نمازیوں سے کھڑے ہونے کے اعتبار سے آگے ہوجائے گا تو اس کے لیے کیا حکم ہے،  کہ کرسی کی وجہ سے اس سے صف کی برابری کا حکم ختم ہے؟  یا اسے ہر حال میں کھڑے ہونے کی صورت میں باقی نمازیوں کے برابر کھڑا ہونا ہوگا؟ 

3۔ صف کی برابری کا حکم وجوبی ہے یا سنت ہے؟ اس میں کمی بیشی جیسا کہ مذکورہ صورت میں ہے یا پہلے صف میں کچھ جگہ ہو تو بقیہ نمازیوں کے نماز پر فرق کے حوالے سے مکمل وضاحت عنایت فرمائیں۔ 

نوٹ: ہماری مسجد میں پہلے والے دونوں مسائل بہت شدت اختیار کرچکے ہیں،  روزانہ کی بنیاد پر نمازیوں میں تلخ کلامی ہورہی ہے، اور یہ بڑے فتنے کا سبب دکھائی دے رہے ہیں؛ لہذا جلد جواب عنایت فرمائیں تاکہ نمازیوں کا اختلاف روکا جاسکے۔ 

جواب

1. صورت مسئولہ میں ”نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا“ کی عبارات میں تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ ذکر کردہ عبارات میں سے  پہلی عبارت اس صورت سے متعلق ہے کہ جس میں نمازی زمین پر سجدہ کرنے پر قادر ہو، اور دوسری عبارت اس صورت سے متعلق ہے کہ جس میں نمازی  زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو، اس کا  واضح قرینہ یہ ہے کہ دوسری عبارت کے آخر میں یہ حکم بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ ”واضح رہے کہ جو شخص سجدہ پر قادر نہیں اس سے قیام کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے“۔ 

لہذا جو   شخص (جو  قیام اور رکوع پر تو قادر ہو لیکن  زمین پر سجدہ نہ کرسکتا ہو )کے لیے یہ حکم ہوگا کہ وہ ابتداء سے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے،  اور رکوع و سجدہ  اشارہ سے کرے؛  کیونکہ نماز میں اصل سجدہ ہے قیام و رکوع تو  اس کے لیے واسطہ اور وسیلہ کی حیثیت رکھتے ہیں، لہذا ایسی صورت حال میں مذکورہ شخص سے قیام و رکوع ساقط ہوجائیں گے، اور اگر زمین پر سجدہ کرنے پر قادر ہےلیکن قیام پر پورا قادر نہیں تو ایسی صورت میں جتنے دیر تک قیام کرسکتے ہیں کرے، باقی زمین پر بیٹھ سکتا ہے تو زمین پر بیٹھے ورنہ کرسی پر بیٹھ جائے، اور سجدہ زمین پر کرے۔ 

2. کرسی پر نماز پڑھنے والا شخص جب صف میں کرسی رکھے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کرسی کے پچھلے پائے صف کی لکیر پر رکھے، تاکہ کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی صورت میں اس کے کندھے دیگر نمازیوں کے برابر ہوجائیں،  اور چونکہ کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے سجدہ کرنے والے  کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ پوری نماز  کرسی پر بیٹھ کر ادا کرے،  تو ایسی صورت میں  اس شخص کو قیام اور رکوع کے لیے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، نیز کھڑے ہوکر قیام و رکوع کرنا اگرچہ جائز ہے لیکن اس صورت میں صفوں کی درستگی اور برابری متاثر ہوتی ہےجو کہ مکروہ ہے، لہذا ایک ایسا کام جو بہتر نہیں ہے اس  کے لیے صفوں کی درستگی خراب کر کے اپنی نماز مکروہ نہیں کرنی چاہیے۔ 

3. صفوں کو برابر رکھنا  سنت مؤکدہ ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ  صحابہ رضی اللہ عنہم کو صفوں کی  برابری کا تاکیدی حکم فرماتے تھے، اور صفوں کی عدم درستگی کی صورت میں تادیب بھی فرمایا کرتے تھے؛ لہذا اپنی وسعت کے مطابق صفوں کو درست رکھنے کی  کوشش کرنی چاہیے، لیکن اگر دوسرا کوئی نمازی صفوں کی برابری کا خیال نہ رکھے، یا صف میں جگہ خالی چھوڑ دے تو ایسی صورت میں نماز  میں شامل دیگر نمازیوں کی نمازوں پر کچھ اثر نہیں ہوگا۔ 

مشکوۃ المصابیح میں ہے: 

"عن النعمان بن بشير قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي صفوفنا حتى كأنما يسوي بها القداح حتى رأى أنا قد عقلنا عنه ثم خرج يوما فقام حتى كاد أن يكبر فرأى رجلا باديا صدره من الصف فقال: «عباد الله لتسون صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم. "

(کتاب الصلوۃ باب تسویة الصف ج: 1 ص: 100 ط: مکتبہ رحمانیة)

ترجمہ: 

”حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہماری صف اس طرح سیدھی کرتے تھے گویا کہ ان صفوں سے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ہم بھی رسول اللہ ﷺ سے صفوں کی سیدھا کرنے کی اہمیت  کو سمجھ گئے،  ایک روز نبی ﷺ تشریف لائے اور نماز کے لیے کھڑے ہوگئے، اور تکبیر شروع ہونے کو تھی کہ ایک آدمی کا سینہ سب سے آگے نکلا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے دیکھ لیا اور فرمایا:  اے اللہ کے بندو اپنی صفوں کو سیدھا رکھو ورنہ اللہ تعالی تمھارے درمیان اختلاف پیدا کردے گا۔“

(مظاہر حق جدید ج: 1 ص: 833 ط: مکتبۃ العلم لاہور)

فتاوی شامی میں ہے: 

"(ويصف) أي يصفهم الإمام بأن يأمرهم بذلك. قال الشمني: وينبغي أن يأمرهم بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا مناكبهم ويقف وسطا.....ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامة في صف خلف صف فيه فرجة. قلت: وبالكراهة أيضا صرح الشافعية. ....قوله كقيامه في صف إلخ) هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية، ويرشد إلى الثاني قوله صلى الله عليه وسلم " ومن قطعه قطعه الله."

(كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج: 1، ص: 570/568 ، ط: ايچ ایم سعید)

و فیہ أيضاً: 

"(وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما.....(قوله بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود."

(كتاب الصلوۃ، باب صلوٰۃ المریض، ج: 2، ص: 98/97، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144710101811

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں