
میں ایک حافظِ قرآن ہوں اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ میں زیادہ تر سر پر ٹوپی پہنتا ہوں، لیکن کچھ جگہیں جیسے کوچنگ سینٹر یا کہیں گھومنے پھرنے جانا ہو، تو وہاں میں یا تو پی کیپ (P-cap) پہن لیتا ہوں یا ننگے سر چلا جاتا ہوں۔ کیا یہ عمل غلط ہے؟کیونکہ مجھے بال بڑھانے کا شوق ہے (بغیر کسی اسٹائلنگ کے)۔
اور عمومی طور پر بھی ٹوپی کے بارے میں کیا حکم ہے؟
کیا نماز یا کسی دوسرے عمل کے علاوہ عام اوقات میں سر پر ٹوپی پہننا ضروری ہےاور کیا ٹوپی نہ پہننا کوئی غلط بات ہے؟
نماز کے علاوہ عام اوقات میں بھی عمامہ یا ٹوپی کے ذریعہ سر ڈھانپنا اسلامی تہذیب اور مسلمانوں میں نسل در نسل چلتے ہوئے لباس کا حصہ ہے، کبھی کبھار ننگے سر ہوجانا منع نہیں ہے، لیکن اسے مستقل اور روزانہ کی عادت بنا لینا خلافِ ادب اور تہذیبِ اسلامی کے خلاف ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ ر ضی اللہ عنہم اجمعین سے نماز میں اور نماز کے علاوہ عمامہ اور ٹوپی پہننا ثابت ہے،عمامہ پہننے کی روایات تو بکثرت کتب حدیث میں ملتی ہیں، حتی کہ بعض محدثین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمامہ کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے اپنے مجموعۂ احادیث میں باقاعدہ مستقل ابواب قائم کیے ہیں، البتہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے صرف ٹوپی سے متعلق روایات کثرت سے نہیں ملتیں، جس کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمامے کا اہتمام بھی ہے، الغرض مناسک حج وغیرہ کے علاوہ اسلام میں سر کھلا رکھنا پسندیدہ نہیں ہے۔
لہذا ایک مسلمان اور پھر حافظِ قرآن ہونے کی حیثیت سے آپ کو چاہیے کہ آپ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی نیت سے اور اپنی تہذیب کا حصہ سمجھتے ہوئے ہر نوعیت کے مجمع میں بلا جھجک ٹوپی پہنیں، نہ یہ کہ ٹوپی پہننے میں شرم محسوس کرنے کی وجہ سے ننگے سر رہیں یا P Capکا استعمال کریں، P Cap پہننے سے وہ سنت پوری نہیں ہوگی اور نہ ہی اسلامی تہذیب کا اظہار ہوگا۔
زاد المعاد میں ہے:
"فصل في ملابسه صلى الله عليه وسلم كانت له عمامة تسمى: السحاب، كساها عليا. وكان يلبسها تحت القلنسوة. وكان يلبس القلنسوة بغير عمامة، ويلبس العمامة بغير قلنسوة".
(فصل:في ملابسه - صلى الله عليه وسلم -1/ 132، ط:دار عطاءات العلم)
مقالاتِ کوثری میں ہے:
"أما صلاة المصلي وهو حاسر الرأس من غير عذر فصحيحة إذا كانت مستجمعة للشروط والأركان، لكنها خلاف السنة المتوارثة والعمل المتوارث في كل بقعة من بقاع المسلمين على توالي القرون، وتشبه بأهل الكتاب فإنهم يصلون وهم حسر الرؤوس كما هو مشهود، ونبذ للزينة التي أمر المسلمون بأخذها عند كل مسجد وصلاة..."
وفيه أيضاّ:
"قال الماوردي: أخذ الزينة هو التزين بأجمل اللباس وقال أبو حيان: والذي يظهر أن الزينة هو ما يتجمل به ويتزين عند الصلاة. ولا يدخل فيه ما يستر العورة لأن ذلك مأمور به مطلقا اهـ.
وهذا الكلام وجيه جدا فشمول الزينة لغطاء الرأس ليس بموضع ريبة أصلا، وهو المعمول به من أول الأسلام إلى اليوم، ولم ير أحد في زمن من الأزمان ولا في مكان من الأمكنة انعقاد صفوف المسلمين في صلواتهم وهم حسر الرؤوس. ومن ينكر ذلك يكون مكابرا. فمحاولة إخراج غطاء الرأس من الزينة لا يعضدها دليل بل تكون قولا بالتشهي بدون قدوة. ولا شك أن لفظ الزينة يتناول غطاء الرؤوس تناولا أوليا فيكون مأمورا به في الآية.... والحاصل أنه لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه صلى وهو حاسر الرأس من غير عذر حتى نقتدي به صلى الله عليه وسلم في كشف الرأس في الصلاة، وقد سبق بيان عادة النصارى من كشف الرؤوس في صلواتهم بل هم يفعلون كذالك من كل موقف احترام يقفونه".
(كشف الرؤوس، 166-167، ط: المكتبة التوفيقية)
ابن جوزی رحمہ اللہ کی کتاب تلبیسِ ابلیس میں ہے:
"ولا يخفى عَلَى عاقل أن كشف الرأس مستقبح وفيه إسقاط مروءة وترك أدب وإنما يقع فِي المناسك تعبدا لله وذلا لَهُ".
(الباب العاشر: في ذكر تلبيسه على الصوفية من جملة الزهاد، ذكر تلبيس إبليس على الصوفية في الوجد، ص232، ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102029
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن