بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز تراویح کے بعد اور وتروں سے پہلے اجتماعی دعا کرنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کی 20تراویح کے بعد اور وتروں سے پہلے دعاء کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز تراویح کے بعد اور وتروں سے پہلے اجتماعی دعا کرنا اکابرین سے ثابت ہے ،اور یہ بزرگوں کا معمول رہا ہے ،اور اس وقت دعاکی قبولیت کی زیادہ امید ہوتی ہے ،کیونکہ یہ دعا تراویح میں  قرآن مجید کی تلاوت کے  بعد ہوتی ہے ۔البتہ اس کو لازمی اور واجب کا درجہ نہیں دینا چاہیے ،اور دعا نہ کرنے والے پر طعن تشنیع بھی نہیں کرنی چاہیے۔

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

" بعدِ ختمِ تراویح  دعا مانگنا درست  ہے اور مستحب ہے اور معمول سلف وخلف ہے،  پھر وتر کے بعد دعاضروری نہیں ہے، ایک بار کافی ہے، یعنی ختم تراویح کے بعد کافی ہے۔"

( کتاب الصلوٰۃ،  فصل رابع، مسائل نمازِ تراویح، ج  :4، ص : 190، ط: دارالعلوم دیوبند)

 سنن الدارمی میں ہے :

"عن مجاھد قال بعث الی قال انمادعوناک انا اردنا ان نختم القرآن وانہ بلغنا ان الدعاء یستجاب عند ختم القران قال فدعوا بدعوات۔"

کتاب فضائل القرآن ، باب فی ختم القرآن،    ج: 2، ص: 1099،ط: دار المغنی )

کفایت المفتی میں ہے :

نبی کریم ﷺ سے فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کرنا ثابت ہے، لیکن اجتماعی دعا پر ایسا التزام کرنا کہ جو شخص اس اجتماعی دعا میں شامل نہ ہو رہا اس پر طعن و تشنیع کی جائے درست نہیں، تراویح کے بعد بھی اگر لازم سمجھے بغیر دعا کر لی جائے تو گنجائش ہے، اگر یہ دعاوتر کے بعد کی جائے تو اس کی بھی اجازت ہے، اور اگر کوئی شخص یہ دعا نہیں کرتا تو اس پر بھی لعن طعن نہ کی جائے۔ البتہ وتر کے بعد نوافل ادا کرکے پھر سے اجتماعی دعا سے اجتناب کیا جائے۔

  (  کتاب الصلاۃ، باب الوتر و القنوت ،ج:9 ،ص:  453،  ط:دار الاشاعت ) 

   فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں