بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز تہجد کی فضیلت سے متعلق ایک حدیث کی تخریج وتشریح


سوال

درج حدیث کا ترجمہ ، حوالہ ، سند اور تشریح کے ساتھ رہنمائی کیجیے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رضي اللہ تعالٰی عنہ-: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تبارک و تعالٰی كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ، يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَُ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ.

جواب

سوال میں مذکور حدیث کی سند ، حوالہ، ترجمہ اور تشریح پیش خدمت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

"حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا مالك عن ابن شهاب، عن أبي عبد الله الأغر وأبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة -رضي الله عنه-: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يتنزل ربنا -تبارك وتعالى- كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر، يقول: من يدعوني فأستجيب له؟ من يسألني فأعطيه، من يستغفرني فأغفر له".

(أخرجه البخاري في باب الدعاء نصف الليل (5/ 2330) برقم (5962)، ط. دار ابن كثير بيروت، الطبعة الثالثة: 1407 =1987)

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ہمارےرب تبارک و تعالیٰ ہر رات، جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں، اور فرماتے ہیں :کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟   کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟"۔

تشریح:  حدیث مبارکہ میں تہجد کی فضیلت واہمیت  کو بیان کیا گیا ہے کہ رات کے آخری تہائی میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت خصوصی طور پر متوجہ ہوتی ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص تجلی نازل ہوتی ہے۔ یہ وقت وہ لمحہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ رات کے آخری تہائی میں اللہ رب العزت ایک فرشتے کو آسمانی دنیا کی طرف بھیجتے ہیں۔ وہ فرشتہ ندا دیتا ہے، آواز لگاتا ہے کہ کوئی ہے جو اپنے رب سے مغفرت مانگے؟ کوئی ہے جو دعا کرے؟ کوئی ہے جو رزق طلب کرے؟ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم عبادت کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

"قال القاري: قال ابن حجر: أي: ينزل أمره ورحمته أو ملائكته، وهذا تأويل الإِمام مالك وغيره، ويدل له الحديث الصحيح: "إن الله عَزَّ وجلَّ يمهل حتى يمضي شطر الليل، ثم يأمر مناديًا ينادي فيقول: هل من داع فيستجاب له؟ " الحديث.

والتأويل الثاني -ونسب إلى مالك أيضًا-: أنه على سبيل الاستعارة، ومعناه: الإقبال على الداعي بالإجابة واللطف، والرحمة، وقبول المعذرة، كما هو عادة الكرماء لا سيما الملوك إذا نزلوا بقرب محتاجين ملهوفين مستضعفين".

(بذل المجهود في حل سنن أبي داود: باب أي ليل أفضل (5/ 558)، ط. مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند، الطبعة الأولى:1427 هـ =2006 م)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144601101017

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں