
ہمارے ملک کے دیوبندی علماء کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ پانچ وقت کی نمازوں کے بعد بعض اوقات اجتماعی دعا چھوڑ دیتے ہیں، لیکن جمعہ یا عید کی نماز کے بعد اسے چھوڑتے ہوئے نظر نہیں آتے، دیکھا جاتا ہے کہ کوئی شخص دو سال، پانچ سال یا دس سال سے خطابت کی ذمہ داری انجام دے رہا ہے، مگر کبھی بھی جمعہ کی نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں چھوڑی، اور اگر کبھی اسے چھوڑ دیا جائے تو لوگ مختلف قسم کی تنقیدیں کرتے ہیں۔
تو آپ سے میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں اس دعا کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے بدعت کہا جائے گا؟ اور کیا یہ دعا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہوگی؟
واضح رہے کہ ائمہ اور خطباء عیدین وجمعہ کے بعد اگرچہ ہمیشہ دعا کراتے ہوں، لیکن اس دعا کو لازم یا سنت نہ سمجھتے ہوں، نہ کرنے والوں کو گناہ گار یا تارکِ سنت نہ سمجھتے ہوں، اور اس کے چھوڑنے پر نکیر بھی نہ کرتے ہوں، تو ان کا یہ عمل اصولاً "بدعت" نہیں کہلائے گا، تاہم ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے مقتدیوں کے سامنے مسئلے کی مکمل وضاحت کردیں تاکہ عام لوگوں کو اس دعا کے لازم ہونے کا گمان نہ ہو، ممکن ہو تو دعا کو کبھی کبھار ترک کردیں، نیز جو لوگ اس دعا کو چھوڑنے کی بناء پر ائمہ اور خطباءِ کرام پر تنقیدکرتے ہیں انہیں بھی نرم انداز میں سمجھائیں؛ تاکہ انہیں بھی صحیح مسئلہ کا علم ہوجائے، اور وہ نادانستہ بدعت میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں۔
’’فتاویٰ محمودیہ ‘‘ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
’’مستحب پر (یعنی مباح الترک اعتقاد کرتے ہوئے) مداومت موجبِ کراہت نہیں ہے، بلکہ اصرار موجبِ کراہت ہے (والفرق بین المداومۃ والإصرار لا یخفی علی من لہ أدنی ممارسۃ بالفقہ)۔ جن سورتوں کا مخصوص نمازوں میں پڑھنا ماثور ومنقول ہے ان پر بھی مداومت اس طرح کہ ان کے علاوہ اور سورتیں نہ پڑھیں اگرچہ اعتقاداً جائز سمجھتا ہو ٗ مکروہ ہے۔ ..... جب کسی شیئ کی ایک جانب مستحب ہے تو دوسری جانت کے ترک کی یقیناً رخصت ہوگی، اب اگر جانبِ مستحب پر اس طرح عمل کیا جائے کہ جانبِ رخصت بالکلیہ متروک ہو جائے تو اس مستحب کو درجہ وجوب کا حاصل ہو جائے گا اعتقاداً ہو یا عملاً، خود عامل کے حق میں ہو یا دوسرے دیکھنے والوں کے حق میں، یہ ایک مفسدہ ہے، جس سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ جانبِ رخصت پر بھی کبھی کبھی عمل کیا جائے۔‘‘
(باب البدعات والرسوم، ۳/ ۵۲، ط: ادارۃ الفاروق)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"(ويكره التعيين) كالسجدة و هل أتى لفجر كل جمعة، بل يندب قراءتهما أحيانا.
(قوله بل يندب قراءتهما أحيانا) قال في جامع الفتاوى: وهذا إذا صلى الوتر بجماعة، وإن صلى وحده يقرأ كيف شاء اهـ وفي فتح القدير: لأن مقتضى الدليل عدم المداومة لا المداومة على العدم كما يفعله حنفية العصر، فيستحب أن يقرأ ذلك أحيانا تبركا بالمأثور، فإن لزوم الإيهام ينتفي بالترك أحيانا، ولذا قالوا: السنة أن يقرأ في ركعتي الفجر بالكافرون والإخلاص. وظاهر هذا إفادة المواظبة، إذ الإيهام المذكور منتف بالنسبة إلى المصلي نفسه اهـ ومقتضاه اختصاص الكراهة بالإمام . . . وقيد الطحاوي والإسبيجابي الكراهة بما إذا رأى ذلك حتما لا يجوز غيره، أما لو قرأه للتيسير عليه أو تبركا بقراءته عليه الصلاة والسلام فلا كراهة لكن بشرط أن يقرأ غيرها أحيانا لئلا يظن الجاهل أن غيرها لا يجوز. واعترضه في الفتح بأنه لا تحرير فيه لأن الكلام في المداومة. اهـ. وأقول: حاصل معنى كلام هذين الشيخين بيان وجه الكراهة في المداومة وهو أنه إن رأى ذلك حتما يكره من حيث تغيير المشروع وإلا يكره من حيث إيهام الجاهل."
(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل في القراءة، ١/ ٥٤٤، ط: سعيد)
وفيه أيضا:
"وسجدة الشكر مستحبة به يفتى لكنها تكره بعد الصلاة لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه.
(قوله فمكروه) الظاهر أنها تحريمية لأنه يدخل في الدين ما ليس منه ط."
(كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، ٢/ ١١٩-١٢٠، ط: سعيد)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"كل مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه كتعيين السورة للصلاة وتعيين القراءة لوقت ونحوه."
(مسائل وفوائد شتى من الحظر والإباحة، ٢/ ٣٣٣، ط: دار المعرفة)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101862
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن