
ایک شخص نے کہا کہ جنازے میں اصل یہ ہے کہ اس کو سنت مؤکدہ کے بعد اور وتر سے پہلے پڑھنا چاہیے، تو کیا اس کی یہ بات درست ہے، شرعی راہ نمائی فرمائیں!
نمازِ جنازہ میں اصل تو یہ ہے کہ جیسے ہی جنازہ حاضر ہو جائے نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! تین کام ایسے ہیں کہ ان میں دیر نہ کرو : نماز جب اس کا وقت آجائے، جنازہ جب تیار ہوجائے ،بے خاوند والی عورت جب اس عورت کے لیے مناسب آدمی مل جائے (تو اس کا نکاح کردو)“۔ البتہ تین مکروہ اوقات میں جیسے دیگر نمازیں پڑھنا ممنوع ہیں، ایسے ہی نماز جنازہ پڑھنا بھی منع ہے، تین مکروہ اوقات سے مراد: عین طلوعِ شمس، غروبِ شمس اور استواءِ شمس کا وقت ہے۔ لیکن یہ ممانعت تب ہے، جب کہ جنازہ ان اوقات سے پہلے تیار ہوکر آچکا ہو اور تاخیر کر کے ان اوقات میں پڑھایا جائے، اگر جنازہ تیار ہوکر ان ہی اوقات میں حاضر ہوجائے تو پھر تاخیر کرنے کے بجائے ان ہی اوقات میں پڑھادینا چاہیے، اس صورت میں کوئی کراہت نہیں ہوگی۔
تاہم اگر فرض نماز کا وقت ہو تو ایسی صورت میں پہلے فرض نماز اور اس کے بعد کی سنتیں، اور اگر عشاء کا وقت ہو تو فرض نماز، سنتیں اور وتر پہلے ادا کئے جائیں ، اس کے بعد نمازِ جنازہ ادا کی جائے، تا کہ اگر کوئی مسبوق ہے تو اس کی نماز میں خلل واقع نہ ہو اور سنتیں ، وتر رہ جانے کا خطرہ بھی نہ ہو، اور اہتمام سے ادا ہو جائیں، البتہ سنن غیرموکدہ یا نوافل میں مشغول ہوکر نماز جنازہ اور تدفین میں تاخیر کرنا مکروہ ہے ۔
مشكاة المصابيح (1/ 192):
"عن علي رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يا علي! ثلاث لاتؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤاً» . رواه الترمذي".
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے :
"عن الحسن و ابن سیرین قالوا : إذا حضرت الجنازۃ و الصلاۃ المكتوبة یبدأ بصلاۃ المكتوبة."
(المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۸۵ رقم: ۱۱۳۲۹ بیروت)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
"(وكره) تحريماً، وكل ما لايجوز مكروه (صلاة) مطلقاً (ولو) قضاءً أو واجبةً أو نفلاً أو (على جنازة وسجدة تلاوة وسهو) لا شكر، قنية (مع شروق) ... (واستواء) ... (وغروب، إلا عصر يومه) ... (وينعقد نفل بشروع فيها) بكراهة التحريم (لا) ينعقد (الفرض) وما هو ملحق به كواجب لعينه كوتر (وسجدة تلاوة، وصلاة جنازة تليت) الآية (في كامل وحضرت) الجنازة (قبل) لوجوبه كاملاً فلا يتأدى ناقصاً، فلو وجبتا فيها لم يكره فعلهما: أي تحريماً. وفي التحفة: الأفضل أن لا تؤخر الجنازة.....
(قوله: وفي التحفة إلخ) هو كالاستدراك على مفهوم قوله أي تحريما، فإنه إذا كان الأفضل عدم التأخير في الجنازة فلا كراهة أصلاً، وما في التحفة أقره في البحر والنهر والفتح والمعراج حضرت " وقال في شرح المنية: والفرق بينها وبين سجدة التلاوة ظاهر؛ لأن تعجيل فيها مطلوب مطلقا إلا لمانع، وحضورها في وقت مباح مانع من الصلاة عليها في وقت مكروه، بخلاف حضورها في وقت مكروه وبخلاف سجدة التلاوة؛ لأن التعجيل لا يستحب فيها مطلقا اهـ أي بل يستحب في وقت مباح فقط فثبتت كراهة التنزيه في سجدة التلاوة دون صلاة الجنازة".
(كتاب الصلاة، باب الجنازۃ، 2/ 370، ط: سعيد)
وفيه أيضاّ:
"(وتقدم) صلاتها (على صلاة الجنازة إذا اجتمعا) لأنه واجب عينا والجنازة كفاية (و) تقدم (صلاة الجنازة عن الخطبة) وعلى سنة المغرب وغيرها والعيد على الكسوف، لكن في البحر قبيل الأذان عن الحلبي الفتوى على تأخير الجنازة عن السنة وأقره المصنف كأنه إلحاق لها بالصلاة لكن في آخر أحكام دين الأشباه ينبغي تقديم الجنازة والكسوف حتى على الفرض ما لم يضق وقته فتأمل".
وفي الرد:
"(قوله على الخطبة) أي خطبة العيد وذلك لفرضيتها وسنية الخطبة، وكذا يقال في سنة المغرب ط (قوله: وغيرها) كسنة الظهر والجمعة والعشاء...
(قوله عن السنة) أي سنة الجمعة كما صرح به هناك وقال فعلى هذا تؤخر عن سنة المغرب لأنها آكد اهـ فافهم (قوله إلحاقا لها) أي للسنة بالصلا ة أي صلاة الفرض".
(كتاب الصلاة، باب العيدين، 2/ 167، ط: سعيد)
وفيه أيضاّ:
"ومفاده تقديم الجمعة على الجنازة للعلة المذكورة ولأنها فرض عين، بل الفتوى على تقديم سنتها عليها".
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 232، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100249
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن