بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نامرد کی بیوی کے مہر کا حکم


سوال

ہمارے رشتہ داروں میں ایک شادی ہوئی، تقریباً 4-5 سال میاں بیوی نے ایک ساتھ گزارے، تنہائی میں بھی رہے، اب اس کے بعد بیوی ازدواجی زندگی گزارنے سے مایوس ہو گئی اور واپس رہنے والدین کے گھر آ گئی اور کہا کہ میرا خاوند ازدواجی زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہے، نامرد ہے، ایک مرتبہ بھی تعلقات قائم نہیں کر سکا، لہذا مجھے اس سے خلاصی دلائی جائے، ایسی صورت میں کیا لڑکی مہر کی حق دار ہے؟ واضح رہے کہ شادی کے موقع پر مہر متعین تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب شادی کے بعد میاں بیوی تنہائی میں ساتھ رہے ہیں اور مہر بھی متعین تھا تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ مکمل مہر کی ادائیگی لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (‌بلا ‌مانع حسي) ...  كالوطء) فيما يجيء (ولو) كان الزوج (مجبوبا أو عنينا أو خصيا) ... في (تأكد المهر) المسمى."

(كتاب النكاح ، باب المهر ، جلد : 3 ، صفحه : 114-118 ، طبع : سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100077

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں