بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1448ھ 19 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

نمک کو کھاد کے طور پر استعمال کرنا/تبدیلی جنس کرنے سے وراثت کا حصہ


سوال

1:نمک کو بطور کھاد استعمال کرنا کیسا ہے؟

2:اگر کوئی عورت آپریشن کے ذریعے آدمی بن جائے تو کیا اس کا میراث کا حصہ بدل جائے گا؟

جواب

1:نمک کا بطور کھاد استعمال زمین یا باغات کے لیے مفید ہو تو استعمال کرنا جائز ہے ۔ 

2:اگر کوئی عورت اپنی جنس تبدیل کراکر دوسری جنس اختیار کرلے ،تو ایسی صورت میں شریعت اور اللہ کی مقرر کردہ جنس میں تبدیلی اور تغیر کرنے کی وجہ سے یہ عمل ناجائز اور حرام ہے،تاہم اس پر شرعی احکامات لاگو ہوں گے اور ایسی صورت میں اگر  سابقہ  جنس بالکلیہ ختم ہوجائے اور اس میں دوسری تبدیل کرائی ہوئی جنس کی مخصوص  علامات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں تو اس پر دوسری جنس کے احکامات جاری کیے جائیں گے اور اسی کے مطابق وہ وراثت میں حصہ دار ہوگا۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{فِطْرَتَ الله الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْها لا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ الله}[سورۃ الروم:۳۰]

’’اللہ کی فطرت پر قائم رہو، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں‘‘.

مسلم شریف میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال:’’لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغیرات خلق الله‘‘.

(کتاب اللباس والزینة، باب تحریم فعل الواصلة والمستوصلة، ج2، ص205، ط:قدیمی)

ترجمہ: ’’ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ  سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ پاک لعنت بھیجتے ہیں گودنے اور گودوانے والیوں پر اور بال اُکھاڑنے اور اُکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان خلا پیدا کرنے اور کروانے والیوں پر جو زینت کے لیے کرتی ہوں، یہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی کرنے والیاں ہیں۔‘‘

فتاوی شامی میں ہے:

"(فإن بلغ وخرجت لحيته أو وصل إلى امرأة أو احتلم) كما يحتلم الرجل (فرجل، وإن ظهر له ثدي أو لبن أو حاض أو حبل أو أمكن وطؤه فامرأة۔

(قوله كما يحتلم الرجل) بأن خرج منيه من الذكر ط (قوله أو لبن) أي في ثديه كلبن النساء وإلا فالرجل قد يخرج من ثديه لبن. وفي الجوهرة: فإن قيل ظهور الثديين علامة مستقلة فلا حاجة إلى ذكر اللبن، قيل لأن اللبن قد ينزل ولا ثدي أو يظهر له ثدي لا يتميز من ثدي الرجل فإذا نزل اللبن وقع التمييز اهـ ط عن الحموي.

(قوله أو حبل)بأن أخذ المني بقطنة وأدخله فرجه فحبل ط عن سري الدين (قوله أو أمكن وطؤه) بأن اطلع عليه النساء فذكرن ذلك أفاده ط، وعبارة غيره أو جومع كما يجامع النساء".

(کتاب الخنثی، ج6، ص727، ط: سعید)

احکام تجمیل النساء میں ہے:

"وقد رأی العلماء المعاصرون تحریمها ومنعها لدلالة النقل والعقل علی منعها.

 فأما النقل : فبقول اللّٰه عز وجل: { ولآمرنهم فلیغیرن خلق اللّه } [النساء : ۱۱۹] ووجه الدلالة من الآیة : أنها من سیاق الذم وبیان المحرمات التي یسول الشیطان للإنسان بفعلها، ومن هذه المحرمات تغییر خلق اللّٰه وهذه الجراحات تشتمل علی تغییر خلق الله والعبث فیهاحسب الهوی والرغبة ، فتکون العملیة والحال هذه مذمومة شرعًا ، ومن جنس المحرمات التي یسول بها الشیطان للإنسان.

ومن السنة یقول النبي ﷺ : ’’...والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللّٰه ...‘‘. [صحیح مسلم : ۲/۲۰۵] ووجه الدلالة: أنه ﷺ جمع بین تغییر الخلقة وطلب الحسن وکلا هذین المعنیین موجودان في الجراحة التحسینیة ، فإنها تغییر للخلقة من أجل الحسن  بل والزیادة فیه، فهي علی هذا داخلة في الوعید ، ولایجوز أن تفعل".

(المبحث الثانی: جراحة التجمیل التحسینیة، ص378، ط:داراحیاء اللغة العربیة)

 فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100475

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں