بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نجاست کا اثر زائل ہونے کے بعد پینٹ شدہ چھت کے پاک ہونے اور پینٹ کے گرنے کی شرعی حیثیت


سوال

ہمارا  اوپر کا واش روم  لیک تھا اس سے ناپاک پانی ٹپکتا تھا ، اس کے بعد وہ خشک ہو گیا اور لیکج ٹھیک ہو گئی۔ اب اس کے نیچے چھت پر  پرانے پینٹ کے اوپر نیا پینٹ کر دیا گیا، لیکن اب وہ نیا پینٹ گرنا شروع ہو گیا ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ دوسری بات یہ کہ جب پینٹ گیلا ہو تو کیا نیا پینٹ بھی ناپاک ہو جائے گا؟ اور کیا گیلے واش روم میں نیا پینٹ گرنے سے وہ ناپاک ہو جائے گا؟ اسی طرح گیلا پینٹ اترنے کے بعد جب پرانا پینٹ گرے گا تو اس کا کیا حکم ہے؟

خلاصہ یہ ہے کہ چھت یا دیوار پر ناپاک پینٹ خشک ہو جائے تو کیا حکم ہے اور اس کے اوپر نئے پینٹ کا کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ اگر   دیوار یا چھت وغیرہ   پر  اس نوعیت کا پینٹ ہو کہ اس میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت ہو،تو خشک ہونے اور نجاست کا اثر زائل ہونے سے  وہ دیوار یا چھت وغیرہ پاک ہوجاتی ہے،البتہ اگر  پینٹ یا رنگ و روغن اس طرح چکنا  ہو  کہ پانی اس میں جذب نہ ہوسکتاہو، تو پھر  وہ دیوار یا چھت وغیرہ خشک ہونے سے پاک نہيں ہوتی، بلکہ دھونا ہی  ضروری ہوتا ہے۔

چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر پینٹ ایسا ہے جو پانی کو جذب کرلیتا ہے جیسا کہ سوال سے ظاہر ہو رہا ہے، تو  جب لیکج ختم ہوگئی اور چھت خشک ہوگئی تو اب وہ پاک ہے ،مزید برآں اس پر جو نیا پینٹ کیا گیا ہے وہ بھی پاک ہے ۔اب اگر نیا پینٹ خشک ہوکر گرتا ہے اور اس پر کوئی نجاست کا اثر نہیں ہے تو وہ پاک ہی شمار ہوگا ،اور اگر  دوبارہ لیکج ہوتی ہے اور پینٹ گیلا ہوکر گرتا ہے اور اس پر نجاست کا کوئی اثر (رنگ ، بو وغیرہ)موجود ہے تو  وہ ناپاک شمار ہوگا ۔

اگر واش روم میں ناپاک پانی کھڑا ہو اور اس میں  پینٹ گر جائے تو وہ پانی اور پینٹ ناپاک شمار ہوں گے،اور اگر واش روم گیلا تو ہو مگر ناپاک نہ ہو اور پھر اس میں خشک پینٹ گر جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا ۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن أبي قلابة قال: إذا جفت الأرض فقد زكت. وعن ابن الحنفية قال: إذا جفت الأرض فقد زكت."

( کتاب الطھارات، من قال إذا كانت جافة فهو زكاتها، ج:1، ص:59، رقم:625، ط:دار التاج)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ومنها) الجفاف وزوال الأثر الأرض تطهر باليبس وذهاب الأثر للصلاة لا للتيمم. هكذا في الكافي ولا فرق بين الجفاف بالشمس والنار والريح والظل. كذا في البحر الرائق ويشارك الأرض في حكمها كل ما كان ثابتا فيها كالحيطان والأشجار والكلأ والقصب ما دام قائما عليها."

(كتاب الطهارة،الباب السابع في النجاسة و أحكامها،الفصل الأول في تطهير الأنجاس،ج:1،ص:44، ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) ‌تطهر (‌أرض) بخلاف نحو بساط (بيبسها) أي: جفافها ولو بريح (وذهاب أثرها كلون) وريح (ل) أجل (صلاة) عليها (لا لتيمم) بها؛ لأن المشروط لها الطهارة وله الطهورية. (و) حكم (آجر) ونحوه كلبن (مفروش وخص) بالخاء تحجيرة سطح (وشجر وكلأ قائمين في أرض كذلك) أي: كأرض، فيطهر بجفاف وكذا كل ما كان ثابتا فيها لأخذه حكمها باتصاله بها فالمنفصل يغسل لا غير، إلا حجرا خشنا كرحى فكأرض.

(قوله: إلا حجرا خشنا إلخ) في الخانية ما نصه: الحجر إذا أصابته النجاسة، إن كان حجرا يتشرب النجاسة كحجر الرحى يكون يبسه طهارة، وإن كان لا يتشرب لا يطهر إلا بالغسل. اهـ. ومثله في البحر."

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص: 311/312، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101384

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں