
نیمل نام کیسا ہے؟ نیز یہ نام اسلامی لحاظ سے رکھنا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بچوں کے نام اچھے معنی والے، معروف اور پسندیدہ ہونے چاہییں۔ ایسے نام اختیار کرنا بہتر ہے جو صحابہ، صحابیات یا امت کی نیک خواتین کے نام ہوں، یا جن کے معنی میں کوئی قباحت نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں، "نیمل" نام اردو، عربی یا فارسی لغات میں تلاش کے باوجود ملا نہیں، اور عربی میں اس سے ملتا جلتا لفظ "نمل" (چیونٹی) ہے جس کے معنی اور استعمالات مناسب نہیں۔ اس بنا پر "نیمل" نام رکھنا پسندیدہ اور مناسب نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بچی کا نام کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا یا نیک خاتون کے نام پر رکھا جائے۔
القاموس الوحید میں ہے:
"نمِل المکانُ نمَلا: کسی جگہ کا بہت چیونٹیوں والی ہونا، یدُ فلان: ہاتھ سن ہو کر ڈھیلا ہوجانا۔"
(مادہ: نمل، 1711، ط: ادارۂ اسلامیات، لاہور)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100561
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن