بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نیمل نام رکھنے کا حکم


سوال

نیمل نام کیسا ہے؟ نیز یہ نام اسلامی لحاظ سے رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بچوں کے نام اچھے معنی والے، معروف اور پسندیدہ ہونے چاہییں۔ ایسے نام اختیار کرنا بہتر ہے جو صحابہ، صحابیات یا امت کی نیک خواتین کے نام ہوں، یا جن کے معنی میں کوئی قباحت نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں، "نیمل" نام اردو، عربی یا فارسی لغات میں تلاش کے باوجود ملا نہیں، اور عربی میں اس سے ملتا جلتا لفظ "نمل" (چیونٹی) ہے جس کے معنی اور استعمالات مناسب نہیں۔ اس بنا پر "نیمل" نام رکھنا پسندیدہ اور مناسب نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بچی کا نام کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا یا نیک خاتون کے نام پر رکھا جائے۔

القاموس الوحید میں ہے:

"نمِل المکانُ نمَلا: کسی جگہ کا بہت چیونٹیوں والی ہونا، یدُ فلان: ہاتھ سن ہو کر ڈھیلا ہوجانا۔"

(مادہ: نمل، 1711، ط: ادارۂ اسلامیات، لاہور)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100561

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں