بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نیک فطرت بیوی کو فقط محبت اور دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے طلاق دینا


سوال

میں شادی شدہ ہوں، اور میری بیوی ایک نیک فطرت خاتون ہے، اس میں کوئی ذہنی یا جسمانی خرابی نہیں ہے، میں نے اس کے ساتھ خوش رہنے اور اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی ہے، لیکن کافی وقت گزرنے کے باوجود، میں وہ محبت اور سکون پیدا نہیں کر پایا، جو میاں بیوی کے درمیان ہونا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اس رشتے کو جاری رکھا تو میں اس کے حقوق ادا نہیں کر سکوں گا  اور مجھے ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں اسے عزت کے ساتھ اور شرعی قانون کے مطابق بغیر کسی قسم کی توہین یا الزام کے چھوڑ کر دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہوں، تاکہ اسے کہیں اور سکون ملے اور مجھے بھی سکون ملے۔

سوال یہ ہے کہ  اس صورت حال میں کیا طلاق دینا گناہ ہے؟ کیا کوئیآدمی صرف دلچسپی کی کمی کی بنیاد پر وقار کے ساتھ الگ ہوسکتا ہے؟ کیا ایسی طلاق کو اللہ کی رضا حاصل نہیں ہوگی؟اس کے ساتھ ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ میں گناہ (زنا) سے بچنا چاہتا ہوں۔ میرے موجودہ تعلقات میں سکون نہ ہونے کی وجہ سے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں گم نہ ہو جاؤں، میں شریعت کے مطابق دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں اپنی زندگی سکون اور پاکیزگی سے گزار سکوں اور ہر قسم کے حرام کاموں سے بچ سکوں۔میں ان کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں اپنی زندگی سکون سے گزار سکوں، میں ان کو تمام حقوق ادا کر کے رخصت کرنا چاہتا ہوں اور دوسری شادی کر کے اپنی زندگی سکون سے گزارنا چاہتا ہوں، کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟اس معاملے میں میری رہنمائی فرما دیجئے۔

جواب

بصورتِ مسئولہ آپ کے بقول آپ کی بیوی نیک فطرت خاتون ہے، اور اس میں کوئی ذہنی یا جسمانی خرابی  بھی نہیں ہے، تو محض دلچسپی کی کمی اور مستقبل میں حقوق کی عدمِ ادائیگی کے اندیشوں کو بنیاد  بنا کر طلاق دینا جائز نہیں ہے، کسی حقیقی اور شرعی عذر کے بغیر طلاق دے کرعورت کی زندگی خراب کرناازروئے شرع درست نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بن سکتی ہے۔آپ کو چاہیے کہ اللہ سے مستقل دعا کرتے رہیں کہ اللہ آپس میں محبت  پیدا فرمادیں، قرآنِ کریم کی مندرجہ ذیل آیتِ مبارکہ کا ہر فرض نماز کے بعد  11بار ورد کرکے صدقِ دل سے دعا کیا کریں:

{وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ } [الأنفال: 63]

ضروری نہیں کہ ہر انسان میں ہر خوبی موجود ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ ہر انسان میں کچھ خوبیاں موجود ہوتی ہیں، زوجین کے درمیان عدمِ موافقت کی صورت میں اسی پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر اس میں کوئی کمی یا عیب ہے تو اس میں بہت سی خوبیاں اور نفع کے پہلو بھی موجود ہیں، قرآنِ کریم میں عورتوں کی حق تلفی کی مذمت کرتے ہوئے اللہ پاک اسی پہلو کو اجاگر فرماتے ہیں:

{وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا } [النساء:19]

ترجمہ: ’’اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کیا کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں، تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے‘‘۔ (بیان القرآن)

بہرکیف شوہر بیوی کو طلاق نہ دے، اور میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئےحسنِ اخلاق حسنِ معاشرت اور عفو درگزر کے ساتھ زندگی گزاریں،اِس کے بغیر زندگی میں سکون کا حصول ممکن نہیں، علیحدگی کے بعد ممکن ہے کہ جس سے شادی ہو اُس سے بھی دلچسپی اور محبت کا رشتہ قائم نہ ہوسکے، اور وہ رشتہ پریشانیوں اور تکالیف کا باعث بن جائے۔ نیز بیوی پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کے تمام حقوق ادا کرے، بیوی کی نیک بختی اور گھر کی خوشحالی اسی میں ہے کہ بیوی شوہر کی خدمت بجالائے اور اُس کے حقوق کا خیال رکھے، اگر وہ اُسے ہمبستری کے لیے بلائے تو اُس کی نافرمانی نہ کرے۔جو عورت شوہر  کی بلاعذر شرعی نافرمانی کرے احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت سے متعلق سخت وعیدیں آئی ہیں:

مشکاة المصابیح میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح."

(باب عشرة النساء، ج:2، ص:280، ط:قدیمي)

ترجمہ: ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتہ اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں۔“

(مظاہر حق، ج:3، ص:358، ط:دارالاشاعت)

خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کو چاہیے  کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے سے بالاتر سمجھے،  اس کی وفادار اور فرماں بردار رہے، اس کی خیرخواہی اور رضا جوئی میں کمی نہ کرے، اپنی دنیا  اور آخرت کی بھلائی  اس کی خوشی سے وابستہ سمجھے،  اور شوہر کو چاہیے کہ  وہ اپنی بیوی کو اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت سمجھے،  اس  کی قدر اور اس سے محبت  کرے، اگر اس سے غلطی ہوجائےتو چشم پوشی  سے کام لے، صبروتحمل اور دانش مندی سے اس کی  اصلاح کی کوشش کرے،  اپنی استطاعت کی حد تک اس کی ضروریات اچھی طرح پوری کرے، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی کوشش کرے۔

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے :

"وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من ‌أبغض ‌الحلال ‌إلى ‌الله ‌الطلاق، وقال: تزوجوا ولا تطلقوا فإن الطلاق يهتز منه العرش، وقال: لا تطلقوا النساء إلا من ريبة فإن الله لا يحب الذواقين ولا يحب الذواقات، وقال: ما حلف بالطلاق ولا استحلف به إلا منافق."

ترجمہ:”اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔نکاح کرو، طلاق نہ دو، کیونکہ طلاق سے عرش الٰہی لرز اٹھتا ہے۔ اور فرمایا:عورتوں کو صرف اس وقت طلاق دو جب کوئی شبہ (بدچلنی کا یا بہت سنگین وجہ) ہو، کیونکہ اللہ نہ تو بہت زیادہ چکھنے والے مردوں کو پسند کرتا ہے، نہ عورتوں کو۔جو شخص طلاق کی قسم کھاتا ہے یا طلاق کے ذریعے کسی کو قسم دیتا ہے، وہ منافق ہے۔“

(كتاب النكاح،باب قول الله تعالى ياايها النبى اذا طلقتم النساء،ج:20،ص: 226،ط:دار إحياء التراث العربي، ودار الفكر - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے :

"  وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ وإذا وجدت الحاجة المذكورة أبيح وعليها يحمل ما وقع منه - صلى الله عليه وسلم - ومن أصحابه وغيرهم من الأئمة صونا لهم عن العبث والإيذاء بلا سبب، فقوله في البحر إن الحق إباحته لغير حاجة طلبا للخلاص منها، إن أراد بالخلاص منها الخلاص بلا سبب كما هو المتبادر منه فهو ممنوع لمخالفته لقولهم إن إباحته للحاجة إلى الخلاص، فلم يبيحوه إلا عند الحاجة إليه لا عند مجرد إرادة الخلاص وإن أراد الخلاص عند الحاجة إليه فهو المطلوب، وقوله في البحر أيضا إن ما صححه في الفتح اختيار للقول الضعيف وليس المذهب عن علمائنا فيه نظر لأن الضعيف هو عدم إباحته إلا لكبر أو ريبة. "

(ج:3، ص:228، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100138

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں