
ایک عورت نےایک پلاٹ خریدا رمضان سے ایک دن پہلے19 لاکھ میں،لیکن اس پلاٹ پر زکوۃ واجب ہونے والی تھی رمضان المبارک میں،توکیااس پلاٹ کی زکوۃ اس عورت (خریدنے والی )پر واجب ہے یانہیں؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون نے اگر مذکورہ پلاٹ تجارت کی غرض سے خریداہو،اورو ہ پہلے سے صاحب نصاب بھی ہو،تو اس صورت میں اس کے زکوۃکے سال کی تکمیل پر مذکورہ پلاٹ کی زکوۃ ادا کرنا اس پرلازم ہو گا،البتہ اگر اس نے یہ پلاٹ رہائش کی غرض سےخریداہو،یاخرید تے وقت اس کی کوئی متعین نیت نہ ہو،تو اس صورت میں مذکورہ پلاٹ کی زکوۃ اداکرنا اس پر لازم نہیں ہوگا ۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"ولا صفة الغنى في المالك وبه فارق ما لو اشترى دارا للتجارة فإنه ليس في رقبة الدار وظيفة أخرى فتعمل نية التجارة فيها حتى تلزمه الزكاة وروى ابن سماعة عن محمد رحمهما الله تعالى أن الأرض إذا كانت عشرية فاشتراها للتجارة فعليه فيها الزكاة."
(كتاب الزكاة،باب زكاة الأرضين والغنم والإبل،ج:3،ص:47،ط:دار المعرفة)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية. ولو استبدل مال التجارة أو النقدين بجنسها أو بغير جنسها لا ينقطع حكم الحول."
(كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:1، ص:175،ط:دارالفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100965
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن