
حکومت نے گاؤں کی نہر پر پانی سے چلنے والا بجلی گھر بنایا،اور بد قسمتی سے وہ سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا ،اب اس تباہ شدہ بجلی گھر میں استعمال شدہ پائپوں کو گاؤں والے اپنے پانی کی ترسیل میں استعمال کر رہے ہیں،اور اب اس کے استعمال میں گاؤں والوں کا تنازع ہو گیا ہے تو اس کا پانی کس کو ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں ارباب حکومت سے اولاً اس کی اجازت لے لی جائے،اور اگر وہ سب گاؤں والوں کے لیے مباح کردیں تو یہ پانی ہر ایک کو اس کی زمین کے بقدر ملے گا۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"ولو اختصم أهل الطريق فادعى كل واحد منهم أنه له فهو بينهم بالسوية إذا لم يعرف أصله لاستوائهم في اليد على الطريق والاستعمال له ولا يجعل على قدر ما في أيديهم من ذرع الدار والمنزل لأن حاجة صاحب المنزل الصغير إلى الطريق كحاجة صاحب الدار الكبيرة وهذا بخلاف الشرب فإن عند اختلاف الشركاء يجعل الشرب بينهم على قدر أراضيهم ۔"
(کتاب القسمۃ، ج:5، ص:205، ط:رشیدیہ)
فتاوی شامی میں ہے:
"(نهر بين قوم اختصموا في الشرب فهو بينهم على قدر أراضيهم) لأنه المقصود (بخلاف اختلافهم في الطريق فإنهم يستوون في ملك رقبته) بلا اعتبار سعة الدار وضيقها لأن المقصود الاستطراق (وليس لأحد من الشركاء) في النهر (أن يشق منه نهرا أو ينصب عليه رحى) إلا رحى وضع في ملكه ولا يضر بنهر ولا بماء وقاية."
(کتاب احیاء الموات، ج:6، ص:443، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100109
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن